فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے وزیردفاع بینی گینز سے ان کی اقامات گاہ پرملاقات کی ہے اور ان سے اعتماد سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔فلسطینی صدر نےایک طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ اعلیٰ اسرائیلی حکام سے بات چیت کی ہے۔
ایک سینیر فلسطینی عہدہ دار نے بتایا کہ رات گئے یہ ملاقات اسرائیل کے وسطی علاقے میں واقع وزیر دفاع بینی گینز کے گھر میں ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب صد محمود عباس نے 2010ء کے بعد اسرائیل میں کسی اعلیٰ عہدہ دار سے ملاقات کی ہے۔گذشتہ ایک دہائی کے دوران میں فریقین کے درمیان کوئی ٹھوس امن مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔
بینی گینزنے کہا کہ’’ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔اس سے قبل بھی فلسطینی صدر سے ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ اعتماد کو بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور سکیورٹی کے شعبے میں ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پراتفاق کیاگیا تھا‘‘۔
محمودعباس کے ایک معاون خصوصی حسین آل شیخ نے کہا کہ اس ملاقات میں نئے سیاسی افق کی تلاش کی اہمیت کے علاوہ آباد کاروں کے طرزعمل کی وجہ سے بر سر زمین کشیدہ حالات پر غور کیا گیا۔سلامتی، اقتصادی اور انسانی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ فلسطینیوں کی آزادی کے مخالف ہیں اوروہ ان سے باضابطہ امن مذاکرات سے انکاری ہے۔ لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تنازع کو کم کرنا چاہتے ہیں اور اسرائیل کے زیرقبضہ مغربی کنارے میں حالاتِ زندگی کو بہتربنانا چاہتے ہیں۔
ان وعدوں کے باوجود حالیہ ہفتوں میں فلسطینی علاقے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت االمقدس (مشرقی یروشلم) میں اسرائیلیوں پر فلسطینیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
محمود عباس کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی خواہاں ہے جس میں مغربی کنارے کا علاقہ، مقبوضہ بیت المقدس اورغزہ کی پٹی شامل ہو۔اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں تینوں علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن وہ 2005 میں غزہ سے دستبردار ہو گیا تھا۔
اس کے دو سال کے بعد حماس نے غزہ میں انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی حکومت قائم کرلی تھی اور محمود عباس کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز اور حکام کو علاقے سے نکال باہر کیا تھا۔اس طرح فلسطینیوں کے دو علاقوں غزہ اور غرب اردن میں دومتوازی اور حریف حکومتیں قائم ہوگئی تھیں اور اب تک ان میں یہ تقسیم برقرار ہے۔