اسرائیل متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی کی ضروریات کی حمایت کرتا ہے: صدراسحاق ہرتصوغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے کہا ہے کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی کی ضروریات کی حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ مضبوط علاقائی تعلقات کا خواہاں ہے جبکہ عالمی طاقتیں ایران سے جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں کررہی ہیں۔

انھوں نے یہ بات یواے ای کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر کہی ہے۔اسحاق ہرتصوغ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ملاقات میں سکیورٹی اور دو طرفہ تعلقات کے فروغ پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

یمن سے ایران کی اتحادی حوثی ملیشیا نے گذشتہ پندرھواڑے میں متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائلوں سے دو بارحملہ کیا ہے۔اس تناظر میں انھوں نے کہا کہ ’’ہم آپ کے سکیورٹی کے تقاضوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورہم دہشت گرد گروپوں کی جانب سے آپ کی خودمختاری پر کسی بھی حملے کی ہرشکل اور زبان میں مذمت کرتے ہیں‘‘۔

اسرائیلی صدر نے کہا کہ ہم یہاں ان لوگوں کو مکمل تحفظ مہیا کرنے کے طریقے اور ذرائع تلاش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں جو ہمارے خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔

شیخ محمد نے ان سے گفتگومیں کہا کہ اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات علاقائی استحکام اورامن کو لاحق خطرات خصوصاًملیشیاؤں اوردہشت گرد قوتوں کی جانب سے درپیش خطرات کے بارے میں مشترکہ نقطہ نظررکھتے ہیں۔

انھوں نے اسرائیلی صدر سے ملاقات کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’ہم نے اپنے دو طرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے علاقائی اموراور دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور دوستی کے پل تعمیر کرنے کے مزیدمواقع تلاش کرنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا ہے‘‘۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق صدرہرتصوغ نے متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ دیگر حکام سے بھی ملاقات کی۔ وہ یواے ای میں مقیم یہودی کمیونٹی سے بھی ملاقات کریں گے۔

اسرائیل میں صدارت بڑی حد تک رسمی عہدہ ہے۔صدراسحاق سے قبل وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے دسمبر میں خطے کے تجارتی اور سیاحتی مرکزمتحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020ء میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کے معاہدوں پر دست خط کیے تھے۔انھیں ’’ابراہیم معاہدے‘‘کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ریاستوں اوراسرائیل خطے میں ایران اوراس کی اتحادی ملیشیاؤں کے بارے میں خدشات کا اظہارکرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں