خواتین کی تاریخ کی گہرائیوں میں غوطہ زن سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک سعودی خاتون نے اپنے آپ کو خواتین کی تاریخ کی گہرائیوں میں غوطہ زن اور سعودی تاریخ میں تحقیقی مقالے لکھے۔ انہوں نے یمن کی تاریخ میں بھی گہری مہارت حاصل کی۔ یہاں تک کہ انہیں شوریٰ کونسل کے چھٹے اجلاس میں خصوص اعزاز دیا گیا تاکہ انہیں ایک تعلیمی اور علمی سعودی خواتین کے لیے مثال کے طور پر پیش کیا جاسکے۔

سعودی پروفیسر دلال بنت مخلد الحربی چار بچوں کی ماں ہیں۔ وہ شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں جدید اور عصری تاریخ کی پروفیسر، متعدد علمی کمیٹیوں اور اداروں کی رکن، متعدد سائنسی جرائد کے مشاورتی بورڈ کی رکن اور متعدد ریفرڈ سائنسی جرائد کے ادارتی بورڈ کی رکن،لکھاری ہیں۔انہوں نے اپنے کنسرٹ کیریئر کے دوران بہت سے حالات کے بارے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کی۔

سب سے نمایاں علمی اور تعلیمی مراحل

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے پروفیسر دلال بنت مخلد الحربی نے کہا کہ میں نے جدید تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ایک ایسے موضوع میں جس کے بارے میں پہلے نہیں لکھا گیا۔ انہوں نے’لحج سلطنت‘ کو اپنا موضوع بنایا جو کہ برطانوی استعمار کے دوران جنوبی یمن کی سب سے اہم سلطنتوں میں سے ایک کہلاتی تھی۔

ان کی دوسری خصوصیت پروفیسر شپ حاصل کرنا ہے۔ ڈاکٹر دلال بنت مخلد بتاتی ہیں کہ میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی کے کالج آف آرٹس میں پہلی پروفیسر تھی، جب کہ میرے لیے میرا اہم رجحان خواتین کی تاریخ کے مطالعہ کی طرف رہا ہے۔

ڈاکٹر دلال نے اپنی علمی کیریئر میں متعدد اکیڈمک ایوارڈز حاصل کیے جن میں

- کنگ عبدالعزیز بک ایوارڈ اپنے جو 1440 ھ بہ مطابق 2019ء کو جاری کیا گیا۔ یہ ایوارڈ شاہ عبدالعزیز کی تاریخ سے متعلق شاخ نے جاری کیا تھا۔

- جزیرہ نما عرب کی تاریخ اور ثقافت میں خواتین کے اہم کردار پر جزیرہ نما عرب کی تاریخ میں تحقیق کے لیے امین مدنی انعام 1440 ہجری / 2019 عیسوی، جزیرہ نما عرب میں خواتین کی تاریخ پران کی خدمات کے صلے میں ایوارڈ جاری کیا گیا

سال 2011ء میں انہیں سعودی عرب کی وزارت ثقافت و اطلاعات کی ہسٹری برانچ کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز پرائز برائے مطالعہ جزیرہ نما عرب کی تاریخ کے حوالے سے 2009ء میں انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے 2003 ء میں زبانی تاریخ کی خدمت میں اعزازسے نوازا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے ان تمام خواتین سے سیکھا جن کی سوانح عمری کا مطالعہ کیا اوران کیے مفید انسانی تجربات سے استفادہ کیا، مفید کام کی قدر کو محسوس کیا اور اخلاق و اقدار کی پاسداری کی۔

عورت تحقیق کا مرکز کیوں بنی؟

پروفیسر دلال بنت مخلد الحربی نے بتایا کہ خواتین میں میری دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ میں اس نتیجے تک پہنچی کہ مجھ سے پہلے اس شعبے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ جو کچھ شائع ہوتا رہا وہ صرف سادہ مطالعہ اور حوالہ جات تھے۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ مملکت کے اندر اور باہر ایسے لوگ موجود ہیں جو سعودی خواتین کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس موضوع پر کام شروع کیا اور اس میں مہارت حاصل کرنے پر خود کو آمادہ کیا۔

جہاں تک دوسرے پہلو کا تعلق ہے میں خواتین کی تاریخ کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور ان کے کردار کو اجاگر کرنا چاہتی ہوں جو ان کی انسانیت اور موجودگی پر زور دیتا ہے، جس کی آج ہمیں اپنے معاشروں پر مغربی اثرات اور بہت سے ماڈلز کی موجودگی کے درمیان ضرورت ہے کیونکہ مغربی اثرات لڑکیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

سعودی عرب کی تاریخ کی پہلی محقق!

کیا ڈاکٹر دلال الحربی کو جزیرہ نما عرب میں خواتین کی تاریخ کا واحد مورخ سمجھا جاتا ہے؟

یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پربات کی جاسکتی ہےلیکن میں آپ کو جو یقین دلا سکتی ہوں وہ یہ ہے کہ میں سعودی عرب میں اس شعبے کی پہلی علمی محقق ہوں جس میں ایک طویل سفر کے ذریعے علمی پیداوار کے ذریعے میں نے صبر، سنجیدگی کے ساتھ گہرائی میں مطالعہ کیا ہے۔

آج سعودی عرب کے وژن 2030 کے مطابق ہم بہت سی خواتین کو قیادت کے عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔آپ اس مرحلے کو اپنے ذاتی نقطہ نظر سے کیسے دیکھتے ہیں؟

بلاشبہ خواتین کو مملکت کے وژن 2030 کے ذریعے بہت سے مواقع ملے ہیں اور اس کا ثبوت قیادت کے عہدوں پر ان کا بااختیار ہونا ہے اور خود خاتون نے قیادت سے یہ اعتماد حاصل کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور ایک طویل سفر طے کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں