مکمل خواتین کریو کے ساتھ سعودی عرب کی پہلی اندرون ملک پرواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی ایئرلائن فلائی اے ڈیل نے مملکت میں پہلی اندرون ملک پرواز کی ہے جس کا مکمل سٹاف خواتین پر مشتمل تھا۔

تفصیلات کے مطابق سنیچر کو ایئرلائن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ @flyadeal پر یہ اعلان کیا گیا کہ سعودی ایوی ایشن کی تاریخ میں پہلی بار فلائی اے ڈیل نے اپنی پرواز تمام خواتین سٹاف کے ساتھ چلائی ہے۔ سٹاف میں زیادہ تر خواتین سعودی تھیں۔

جدید ترین A320 طیارے کے ذریعے یہ تاریخی فلائٹ 117ریاض سے جدہ کے لیے چلائی گئی۔

سعودی خواتین نے زندگی کے بہت سے ایسے شعبوں میں خود کو منوا لیا ہے جہاں طویل عرصے سے مردوں کی اجارہ داری رہی ہے اب ان میں ہوابازی سے متعلق شعبہ بھی شامل ہو گیا ہے۔

سات خواتین کے عملے کے ساتھ فلائی ادیل کی فلائٹ 117 میں 23 سالہ یارا جان شریک پائلٹ کی حیثیت سے موجود تھیں جو سب سے کم عمر سعودی خاتون پائلٹ بھی ہیں۔

اس موقع پر یارا جان نے بتایا ہے کہ وہ ہوا بازی کے اس تاریخی لمحے میں سعودی خواتین کے لیے بہت فخر محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’سعودی خاتون کی حیثیت سے یہ ایک قابل فخر اقدام ہے جو میرے لیے انتہائی فخر اور خوشی کا لمحہ ہے۔‘

اس فلائٹ کی شریک پائلٹ یارا جان نے 2019 میں فلوریڈا میں فلائٹ سکول سے گریجویشن کیا اور ایک سال قبل سعودی عرب کی اس ایئر لائن میں شمولیت اختیار کی۔ شریک پائلٹ ہونے کا مطلب پائلٹ کے کئی اہم کاموں میں مدد کرنا جیسے نیویگیشن اور چیک لسٹ مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ سعودی خاتون پائلٹ بننا ایک نئی بات ہے لیکن ہماری نسل کے لیے یہ ناممکن نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ایئر لائن میں مجھے مثبت تبدیلی کا موقع ملنے پر ہمیشہ خوشی ہوگی جس نے سب سے کم عمر خاتون پائلٹ بننے میں میری رہنمائی اور بہت مدد کی۔‘

واضح رہے کہ سعودی خواتین پائلٹوں کی تعداد میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے جن میں تین نام نمایاں ہیں۔

سعودی کمرشل پائلٹ لائسنس کے ساتھ پرواز کرنے والی پہلی خاتون پائلٹ ہنادی زکریا الہندی ہیں۔ راویہ الریفی متحدہ عرب امارات سے بین الاقوامی سطح پر ایئربس A320 اڑانے والی پہلی خاتون پائلٹ ہیں اور شریک پائلٹ یاسمین المیمانی جو مملکت میں تجارتی طیارے کی پہلی شریک پائلٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں