اردن کے شاہ عبداللہ نے اسرائیلی وزیر اعظم سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی علاقے میں امکانی اقتصادی منصوبوں کا لازمی حصہ ہوں گے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کے روز یائر لیپڈ سے ملاقات میں کہی ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کے مشترق وسطیٰ کے حالیہ دورے کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ اور اسرائیلی وزیر اعظم لپیڈ کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔
جوبائیڈن کے دورے کے حوالے سے خطے میں اقتصادی اور دفاعی تعاون کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن اہم موضوعات تھے۔ شاہ عبداللہ نے کہا ' فلسطینیوں کو امریکی سپانسرڈ اقتصادی منصوبوں کا حصہ ہونا چاہیے۔ '
تاہم انہوں نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ یہ امریکی صدر اور امریکہ کی طرف سے خطے کے لیے دی گئی رہنمائی میں شامل تھا کہ فلسطینیوں کو اس پراسس کا حصہ بنایا جائے یا شاہ عبد اللہ کی یہ آپنی سوچ ہے۔
صدر جووبائیڈن کے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران فلسطینی ریاست کے قیام کو بھی بعض عرب رہنماوں کی طرف سے امن کی خاطر لازمی قرار دیا گیا تھا۔
-
اردن کے شاہ عبداللہ کا ایران سے وابستہ ملیشیاؤں کے سرحدی حملوں پر احتجاج
ایران کے ساتھ باہمی احترام، اچھی ہمسایگی اور خودمختاری کےاحترام پرمبنی بہترتعلقات ...
مشرق وسطی -
مراکش اوراسرائیل کے درمیان شعبۂ قانون میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا معاہدہ
مراکش اور اسرائیل کے درمیان قانون کے شعبے میں دوطرفہ روابط اور تعاون کے فروغ کے ...
بين الاقوامى -
ہمارے جنگی طیارے شام پر روسی فائرنگ کی زد میں آئےاسرائیل کا انکشاف
ماسکو اور تل ابیب کے درمیان کشیدہ تعلقات کی روشنی میں اسرائیل نے مُنگل کو اعلان ...
مشرق وسطی