محمد ماصھی میکسیکو کا ڈریگن فروٹ سعودی عرب میں کاشت کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

سعودی شہری ایک نایاب پھل اپنے ملک میں پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع جازان کے علاقے میں ایک شہری ڈریگن فروٹ کاشت کرنے میں کامیاب رہے۔ اس پھل کا شمار مشرقی ایشیا اور میکسیکو کے ممالک مشہورپھلوں اور مہنگے ترین میووں میں ہوتا ہے۔

محمد باصھی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈریگن کا پھل کیکٹی کے درختوں میں سے ایک ہے اور اسے اپنے پھل کی وجہ سے ڈریگن کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ڈریگن کی آنکھ سے مشابہت رکھتا ہے اور اس پر ترازو ڈھکا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کا نام "ڈریگن فروٹ" کیا گیا جو کہ افسانوں کے مطابق ایک غیر ملکی نام ہے اور مشرقی ایشیا میں ڈریگن کی موجودگی اور اس کی آنکھ اور پھل کے درمیان مماثلت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

نایاب پھل

انہوں نے واضح کیا کہ میں نے انڈونیشیا سے درخت کا ایک چھوٹا سا پودا "عقلہ" لایا اوردو سال تک س کی آبیاری کی۔ یہاں تک کہ اس سے پھل پیدا ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈریگن فروٹ کا پھل سعودی عرب کے نایاب پھلوں میں سے ایک ہے۔ ماصھی نے کہا کہ عرب ملکوں میں یہ پھل بہت کم کاشت کیاجاتا ہے۔مجھےاس کا رنگ بہت پسند تھا۔ اس کے علاوہ یہ ایک نایاب پھل ہے۔ اس لیے میں نے اسے کاشت کرنے پر توجہ دی۔

انہوں نے کہا کہ اس پھل کواگانے کے عمل میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کیونکہ جب کٹیاں حاصل کی جاتی ہیں تو ان کی کاشت آسانی کے ساتھ کی جاتی ہے، خاص طور پر چونکہ جازان کے علاقے کی فضا اس قسم کے پھلوں کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔

رات کی رانی

سعودی کاشت کار نے وضاحت کی کہ اس پھل کو ’رات کی رانی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ہے یہ ہے کہ اس کا پھول شام چھ یا سات بجے کھلتا ہے اور اگلے دن کے آغاز کے ساتھ اسی وقت تک کھلا رہتا ہے۔ اس کی اسی خوبی بہ دولت اسے ‘رات کی رانی‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

انہوں ن کہا کہ اس علاقے میں 100 فیصد تک پودے لگانے کی کامیابی کی امید نہیں تھی، لیکن میرا مشن کامیاب رہا۔ اب یہ پودا پھل دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں