مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز حکومت کی کارکردگی بڑھانے کے لیے کابینہ میں ردوبدل کا اعلان کیا ہے اور تیرہ نئے وزراء کا تقرر کیا ہے۔
صدرالسیسی نے ہفتے کے روزپارلیمان کا اجلاس بھی طلب کیا تھا تاکہ کچھ وزارتی قلم دانوں میں تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔مصری صدارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انھوں نے وزیراعظم کے ساتھ مشاورت کے بعدنئے وزراء اور ان کے محکموں کا اعلان کیا ہے۔
کابینہ میں ردوبدل کے بعد نئے وزراء اوران کے محکموں کا مختصرتعارف یہ ہے:
نئے وزیرصحت وآبادی خالد عبدالغفاراس سے قبل اعلیٰ تعلیم کے وزیراور قائم مقام وزیر صحت تھے۔وہ ورجینیا یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر سمیت اندرون اور بیرون ملک بہت سے تعلیمی مناصب پر فائزرہ چکے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے وزیرمحمد ایمن آشوراس سے قبل جامعات کے امورکے نگران اورنائب وزیربرائے اعلیٰ تعلیم تھے۔ آشور فیکلٹی آف انجینئرنگ میں انجینئرنگ کے ڈین اور گریجویٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ افیئرزکے وائس ڈین کے عہدے پرفائز تھے۔ آشورعین الشمس یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی فیکلٹی کے ڈین بھی رہ چکے ہیں۔
نئے وزیرتعلیم و تکنیکی تعلیم رضاحجازی نے کیمیا کے معلم کے طور پر اپنے کیریئر کا آغازکیا تھا۔اس سے پہلے وہ کابینہ میں اساتذہ کے امور کے نائب وزیرتعلیم تھے۔وہ پبلک اتھارٹی برائے تعلیم بالغاں کے نائب صدراورعلاقائی مرکز برائے تعلیم بالغاں کی ڈائریکٹرکے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
آبی وسائل اورآب پاشی کے وزیرہانی سویلم اس وقت قاہرہ کی امریکی یونیورسٹی میں پائیدار ترقی کے پروفیسر ہیں۔سویلم نے مشرق اوسط میں شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیسیلینیشن میں پائیدار ترقی اور تحقیق کا پہلا مرکز قائم کیا تھا۔
وزیرسیاحت و آثار قدیمہ احمد عیسیٰ طحہٰ مصر کے سب سے بڑے نجی بینک کمرشل انٹرنیشنل بینک میں خوردہ تجارت کے شعبے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹررہ چکے ہیں۔
وزیر تجارت و صنعت احمد سمیرصالح سات سال تک رکن پارلیمنٹ رہے ہیں۔آخری مرتبہ ایوان نمائندگان میں اقتصادی امور کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ واحد رکن پارلیمنٹ تھے جنھیں ہفتے کے روز غیرمعمولی اجلاس میں رسمی انداز میں بات کرنے کی دعوت دی گئی تھی جس پرانھوں نے دیگر اراکین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور ازراہ مذاق کہا کہ جب وہ ان سے پوچھ گچھ کریں تو نرم لب ولہجہ اختیارکریں۔
میجر جنرل ہشام آمنہ نے میجر جنرل محمود شراوی کی جگہ وزیر برائے مقامی ترقی کا عہدہ سنبھالا ہے۔ 60 سالہ آمنہ اگست 2018 سے مصرکی شمالی گورنری البحیرہ کے گورنر رہ چکے ہیں۔
فضائیہ کے کمانڈر ایئرمارشل محمد عباس ہاشم کو شہری ہوا بازی کی وزارت سونپی گئی ہے۔پبلک انٹرپرائززسیکٹر کے نئے وزیر محمود عصمت اس سے قبل ایئرپورٹس ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے عہدے پرفائز تھے۔
فیڈریشن آف دا مصری لیبر سنڈیکیٹس یونین کے سیکرٹری جنرل حسن محمد شیہاتہ محمد صفان کے جگہ افرادی قوت کے وزیر کا عہدہ سنبھالیں گے۔وزیر ثقافت نوین الکیلانی اکیڈمی آف آرٹس میں ہائی انسٹی ٹیوٹ برائے فنی تنقید کی ڈین تھیں۔
نئے وزیر مملکت برائے فوجی پیداوار محمد صلاح الدین 24 نومبر 2020 سے قومی اتھارٹی برائے فوجی پیداوار کے نائب صدر اور منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ انھوں نے فوجی پیداوار کے وزیر مملکت اور قومی اتھارٹی کے نائب صدر کے مشیر کے طور پربھی کام کیا ہے۔
وزیرمملکت برائے امیگریشن اورتارکینِ وطن امور سوہا سمیروزیرخارجہ کی سابق معاون اور نیویارک میں اقوام متحدہ میں مصر کے مستقل مشن کی سابق نائب سربراہ ہیں۔ وہ آئرلینڈ میں مصر کی غیرمعمولی سفیر اورنگران سفیرہ کے طورپر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔