مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی کا قتل

محمد الشہام کو فوجیوں نے سر میں سیدھی گولی ماری، والد کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی قابض فوج نے ایک فلسطینی کو گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔ یہ واقعہ مغربی کنارے کے علاقے میں فوجیوں کے ایک چھاپے کے دوران پیش آیا ہے۔ فوجیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فلسطینی نے ان پر چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی تھی۔ قابض فوجیوں کا یہ دعویٰ انہیں چاقو سے لگنے والے کسی زخم کے بغیر ہے۔ محمد الشہام کے والد نے بھی قابض فوجیوں کے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے اسلحے کی تلاشی کے نام پر کفرعقب نام کی بستی میں چھاپہ مارا اور الشہام کے گھر میں داخل ہوگئی۔ اس دوروان محمد الشہام نامی فلسطینی کے سر میں سیدھا فائر کیا۔ جس سے وہ جانبر نہ ہوسکا۔

شہید کے والد نے اپنے بیٹے کی شہادت کو پولیس کی بلاجواز فائرنگ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ والد کے بقول فوجی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کر دی اور محمد الشہام کو سیدھی سر میں گولی ماار دی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا غیر مسلح تھا۔

سینئیر فلسطینی ذمہ دار حسین الشیخ نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے اسرائیلی قابض فوج نے ان دنوں مغربی کنارے میں چھاپوں کی ایک غیر معمولی مہم شروع کر رکھی ہے، ان چھاپوں کا مقصد ناجائز اسلحہ پکڑنا اور مشتبہ افراد کی گرفتاریاں کرنا بتایا جاتا ہے۔

مغربی کنارے میں یہ واقعہ اتوار کی شام پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یہودی آبادکاروں کی ایک بس پر فلسطینی نے بندوق سے حملہ کر کے آٹھ کو زخمی کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں