عراقی شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا عدالت سے رجوع، نئے انتخابات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے جمعہ کے روز عراقی اعلیٰ ترین عدالت سے باضابطہ رجوع کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ پارلیمنٹ کو معطل کر کے نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا جائے۔ تاکہ ملک سے سیاسی حوالے سے بحرانی صورت حال کا خاتمہ ہو سکے۔

عراق میں ان دنوں سیاسی بحران کی سی صورت حال ہے۔ گذشتہ دس ماہ سے انتخابات کے نتائج کے باوجود نئے وزیر اعظم اور نئے صدر کا انتخاب ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ جس کی وجہ سے مقتدیٰ الصدر کی حامی نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عراقی عدلیہ پہلے ہی کہہ چکی ہے پارلیمنٹ کی معطلی کا عدلیہ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ فیصلہ پارلیمنٹ خود اکثریت کی بنیاد پر کر سکتی ہے۔ عدلیہ کا اس بارے میں واضح موقف ہے کہ مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کا ملک کے آئین میں الگ الگ ذکر ہے یہ ایک دوسرے میں مداخلت مہیں کر سکتیں۔

مقتدی ٰ الصدر کے حامی کئی ہفتوں سے پارلیمنٹ کے باہر اور شہ میں دھرنے دے رہے ہیں۔ ہر جمعہ کو بغداد میں نماز جمعہ کی ادائیگی اس احتجاج کے دوران سڑکوں پر کیا جارہی ہے تاکہ اپنے مطالبات منوا سکے۔ اسی دوران مہند الموسی نے اپنے خطاب میں کہا تھا ' ہم توقع کرتے ہیں کہ عدلیہ عوامی حقوق کی فراہمی میں کردار ادا کرے گی، نیز ہم اپنے حقوق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس سے قبل منگل کے روز بھی عدلیہ سے بھی اس سلسلے میں مداخلت کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس روز الصدر کے حامی کئی گھنٹے تک اعلیٰ ترین عدالت کے سامنے کئی گھنٹے تک دھرنا دے کر بیٹھے رہے تھے۔

جبکہ جمعہ کے روز مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے باضابطہ طور دراخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست کے بعد ملک کا سیاسی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے ، کیونکہ عدلیہ اپنے دائرہ کار سے تجاوز کو تیار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں