حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ سرحدی حد بندی کا معاہدہ تسلیم کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمندری سرحد کی حد بندی پر دو سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں نے منگل کو اعلان کیا ہے دونوں ملکوں میں کہ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

حزب اللہ ملیشیا نے حد بندی کے معاہدے کے لیے اس کوتسلیم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے کہا کہ جب تک معاہدہ لبنان کے مطالبات کو پورا کرتا ہے تب تک اسرائیل کے ساتھ راضی ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے لبنانی فیلڈز سے تیل اور گیس نکالنا اہم ہے۔ نصراللہ کا خیال تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سرحدی حد بندی کے معاہدے کے بارے میں اس وقت تک بات نہیں کر سکتے جب تک اس پر دستخط نہیں ہو جاتے۔

"تاریخی پیش رفت"

بائیڈن انتظامیہ نے منگل کے روز لبنان اور اسرائیل کے درمیان برسوں سے جاری سمندری سرحدی تنازع کوطے کرنے کے معاہدے کو سراہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدہ دار نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’آج فی الواقع امریکا کی مہینوں کی ثالثی کے بعد اسرائیلی حکومت اور لبنانی حکومت نے باضابطہ طور پراپنے سمندری سرحدی تنازع کو ختم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان مستقل سمندری سرحد قائم کرنے پراتفاق کیا ہے‘‘۔

اس عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’اس (معاہدے) کی اہمیت یہ ہے کہ دونوں فریقوں کووہ چیزمل جائے جو ان کے لیے واقعی انتہائی اہم ہے‘‘۔

اس عہدہ دار نے مزید کہا: "یہ معاہدہ متعدد وجوہات کی بناء پرتاریخی ہے۔ ایک یہ کہ یہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان باضابطہ معاہدے کے ذریعے سرحد کی پہلی حد بندی ہے۔ یہ اسرائیل کو تحفظ مہیا کرتا ہے، لبنان کو معاشی مواقع اورامید فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لبنان کے پانیوں میں جلد ہی رِگیں ہوں گی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہوگی۔

ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ قبل ایسا لگتا تھا کہ یہ معاہدہ ایک بارپھر تعطل کا شکار ہوجائے گا لیکن امریکی صدر کے خصوصی رابطہ کار آموس ہوچسٹین کی سربراہی میں سفارتی کوششوں کے نتیجے میں لبنان اور اسرائیل حتمی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں۔

پیر کی شب ہوچسٹین نے لبنان کو معاہدے کا حتمی مسودہ پیش کیا تھا۔اس میں بیروت کے مطالبے کے مطابق نظرثانی کی گئی تھی اوراسرائیلی تحفظات پر سمجھوتے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

لبنانی اوراسرائیلی حکام نے امریکا کے پیش کردہ حتمی مسودے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اب اسے دونوں ملکوں کے دارالحکومتوں میں حکومتی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

دریں اثناء ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کودھمکی دی ہے کہ اگر اس نے لبنان کے ساتھ معاہدہ کرنے سے پہلے کریش گیس رگ میں کھوج شروع کی تو وہ اس پر حملہ کردے گی لیکن اس نے خود موجودہ معاہدے کی مخالفت نہیں کی ہے۔

گذشتہ چندروز میں لندن میں قائم انرجی گروپ انرجیئن نے ایک ٹیسٹ کے حصے کے طور پرکریش میں گیس نکالنا شروع کردی تھی۔ہوچسٹین کی فون کالزسے واقف ایک ذریعے کے مطابق،امریکی سفارت کار نے جمعہ کی رات لبنانی حکام سے گفتگو کی تھی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف ایک ٹیسٹ تھا،گیس نکالنے کا عمل نہیں۔

حزب اللہ کا معاہدے کا خیر مقدم

بعد ازاں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ جب لبنانی حکام کہتے ہیں کہ معاہدہ لبنانی مطالبات کو پورا کرتا ہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور جو چیز ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے وہ لبنانی فیلڈز سے تیل اور گیس کا اخراج ہے۔

کنیسیٹ میں بحث

اس تناظر میں اسرائیلی ویب سائٹ (YNet) نے منگل کو پارلیمنٹ کے اسپیکر (Knesset) مکی لیوی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ بدھ کو لبنان کے ساتھ سمندری سرحدی حد بندی کے معاہدے کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اجازت دیں گے۔

نیوز ویب سائٹ نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے بارے میں جلد تمام تفصیلات کنیسٹ میں پیش کی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں