امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے لبنانی مسیحی رکن پارلیمنٹ جبران باسل نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمندری سرحد کا تنازع طے کرنے کے لیے پس پردہ کردار ادا کیا تھا۔ باسل کے بقول ’’اس غرض کے لیے میں نے حز ب اللہ کے ساتھ روابط قائم کیے تھے۔‘‘
جبران باسل لبنان کے سابق وزیر ہیں، ان پر 2020 میں مبینہ طور پر حز ب اللہ کو کرپشن میں اور دوسری سرگرمیاں مین مدد دینے کے الزام میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ باسل کا کہنا ہے امریکی پابندیاں لگنے کے باوجود انہوں نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی مدد سے ہونے والے مذاکرات میں پس پردہ کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا یہ کوئی بڑی بات نہیں وہ اسے ایک معمول کی بات سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کیا۔ ہر شخص یہ بات جانتا ہے، یہ میری ذمہ داری اور فرض تھا، جو میں نے ادا کیا۔'
لبنانی رکن پارلیمنٹ نے کہا 'کیونکہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہ سکتا تھا اور ہم اس میں کامیاب ہوئے اور مذاکرات حتمی مرحلے کو پہنچے۔'
واضح رہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو تینوں فریقوں نے سراہا ہے۔ باسل نے اس بارے میں کوئی متعین بات تو نہیں کہی کہ انہوں نے مذاکرات میں کس طرح حصہ لیا تاہم یہ ضرور کہا کہ وہ اس دوران حزب اللہ کےساتھ جڑے رہے۔ حزب اللہ کا رویہ بھی بہت مثبت رہا۔ علاوہ ازیں بھی میرا کئی لوگوں کے ساتھ رابطہ رہا۔
تاہم رکن پارلیمنٹ باسل کے ان خیالات پر امریکہ یا حزب اللہ کی طرف سے ابھی تک کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ باسل کی سیاسی جماعت حزب اللہ کی اہم اتحادی جماعت ہے۔
انہوں نے امریکی پابندیوں کے بارے میں کہا، انہیں کوئی فکر نہیں، یہ ناجائز پابندیاں ہیں جلدی ختم ہو جائیں گی۔