ایران میں صحافی کی تدفین روکنے پر امریکہ کی طرف سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے ایران میں ایک صحافی کی میت کی تدفین روکنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت صحافیوں کی موت کے بعد بھی ان سے خوف زدہ نظر آتی ہے۔

ایرانی صحافی رضا امریکی سپانسرڈ فارسی براڈ کاسٹنگ ادارے 'ریڈیو فردا' سے وابستہ تھے۔ وہ اس ادارے سے جلاوطنی کے دوران بیرون ملک ہوتے ہوئے کام کر رہے تھے۔ ان کا جرمنی کے ایک ہسپتال میں 17 اکتوبر کو کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا۔

برلن کے ہسپتال میں انتقال کے بعد 45 سالہ رضا کی لاش ایران پہنچی تو اہل خانہ کے مطابق ایرانی پاسداران نے ان کی لاش قبضے میں لے لی تھی۔ تاکہ انتقال کرنے والے صحافی کی میت کی ان کے آبائی شہر شیراز میں سپرد خاک نہ کی جاسکے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پاسداران چاہتے ہیں کہ مرحوم کی تدفین شیراز کے بجائے کسی دوسری جگہ کی جائے۔

اس پر امریکی ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا تھا 'ایرانی حکام سے کہا ہے کہ اس لاش کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ '

امریکی ترجمان نے بھی کہا ' ایران کی حکومت صحافیوں کے مرنے کے بعد بھی ان سے اس قدر زیادہ خوفزدہ ہے۔ ایران میں ایک مرحوم صحافی کی لاش کو سکیورٹی اداروں کا تدفیین سے پہلے قبضے میں لے لینے کا واقعہ ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جب بائیس سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں