اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی جیت تشدد میں اضافے کا سبب ہوگی؛فلسطینی مشوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی تاریخ کے دائیں بازو کے اتحادوں میں سے ایک کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکان نے فلسطینیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور وہ اس خدشے کا برملا اظہارکررہے ہیں کہ انتہاپسند نیتن یاہو کی جیت اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کے تنازعات میں مزید اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

منگل کے روزمنعقدہ انتخابات میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ڈرامائی واپسی متوقع ہے۔جزوی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی مدد سے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔عام انتخابات میں ڈالے گئے 86 فی صد ووٹوں کی گنتی کے بعد نیتن یاہو کا بلاک 120 میں سے 65 نشستیں حاصل کرنے کے لیے پُرامیدہے۔

نیتن یاہو کی واپسی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان برسوں سے جاری تشدد کے مہلک دورکو لوٹا سکتی ہے جبکہ فلسطینیوں کی ریاست کے قیام کی امیدیں مشرق اوسط میں امن قائم کرنے کے ساتھ ہمیشہ کی طرح معدوم دکھائی دیتی ہیں۔

اسرائیل کے زیرقبضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے 100 سے زیادہ فلسطینی اس سال اسرائیلی فورسزکی کارروائیوں میں جان کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے سڑکوں پر ہونے والے مہلک حملوں میں اسرائیل اورغربِ اردن میں یہودی آبادکاروں کی بستیوں میں 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے ممکنہ اتحاد کا انتہائی قوم پرست رنگ تو یہ ہے کہ اس میں سخت گیراتمر بن گویر بھی شامل ہے، جو کبھی فلسطینیوں کوان ہی کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی وکالت کرتا تھا۔اس تناظر میں انھوں نے مزید کشیدگی بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او)کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک رکن بسام سلہی نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرزسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے اتحاد کے نتیجے میں فلسطینی عوام کے خلاف معاندانہ رویے میں اضافہ ہوگا اور قبضے کے اقدامات مزید سخت ہوجائیں گے۔

فلسطینی گروپ حماس نے پیشین گوئی کی ہے کہ اسرائیلی انتخابات کے نتائج کا مطلب مزیدممکنہ تشدد ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ ’’یہ واضح ہے کہ اسرائیلی زیادہ شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت میں اضافہ ہوگا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے زیرقیادت حکومتوں نے ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف کئی جنگیں لڑی ہیں اور اتحاد میں سخت گیرانتہا پسند شخصیات کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں مزید صہیونی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

"امن نہیں"

فلسطینی صدر محمودعباس کے ایک ترجمان نے ابتدائی انتخابی نتائج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حتمی نتائج کا انتظار کریں گے۔

اگرچہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین مذاکرات تعطل کا شکار ہیں ، لیکن اس سال فریقین کے درمیان رابطے ہوئے ہیں۔صدر محمودعباس نے وزیر دفاع بینی گینزسے ملاقات کی ہے تاکہ تناؤ کو کم کیا جاسکے اور فلسطینی علاقوں میں سکیورٹی اقدامات کو مربوط کیا جاسکے۔

ستمبرمیں عباس نے وزیراعظم یائرلبید(لاپیڈ) کی جانب سے تنازع کے دو ریاستی حل کے مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے’مثبت پیش رفت‘ قرار دیا تھا۔اس کے برعکس نیتن یاہو ایک طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

غزہ میں فلسطینی سیاسی تجزیہ کار ریحام عودہ نے کہا کہ امن عمل اور خاص طور پرفلسطینی اتھارٹی کو نیتن یاہو کی واپسی کا سب سے بڑا نقصان ہوسکتا ہے، کیونکہ ان کی ’’ذاتی دشمنی ... عباس سے ہے اوروہ ان کے دو ریاستی حل کے مؤقف کے مخالف ہیں۔

انھوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’نیتن یاہو کے ساتھ، نعرہ ہوگا، کوئی امن نہیں، کوئی دو ریاستی حل نہیں، مزید تصفیہ اور توجہ ایران پر ہوگی۔ان کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ مغربی کنارے میں امن کیسے بحال کیا جائے، فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی مزاحمت کا مقابلہ کیا جائے اور یہودی بستیوں اور آباد کاروں کا تحفظ کیسے کیا جائے۔

دریں اثناء فلسطینی اور اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں تازہ تشدد میں اسرائیلی فوجیوں نے بدھ کے روز ایک چیک پوائنٹ پر مشتبہ کار بم حملے کے بعد ایک فلسطینی شخص کو گولی ماردی ہے جس سے وہ جان کی بازی ہارگیا ہے۔اس مشتبہ حملے میں ایک فوجی شدید زخمی ہو گیا۔

غزہ کی پٹی میں گذشتہ ماہ اگست میں تشدد میں اضافہ ہوا تھا۔ 56 گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 17 بچوں سمیت 49 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔اس کا آغازاسرائیل کی جانب سے فلسطینی اسلامی جہاد گروپ کے خلاف پیشگی فضائی حملوں سے ہوا تھا۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے ٹی وی ڈائریکٹر یوسف خطاب نے کہا کہ فلسطینی عوام کو اس حکومت سے جنگ، تباہی، قتل و غارت گری، خون ریزی، گھروں کو منہدم کرنے، زمینوں کی بربادی اور فلسطینی عوام کی قیمت پر مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں