اسرائیلی بیس سال سے ڈرون استعمال کر رہا ہے: اسرائیلی جرنیل کا انکشاف

غزہ، یمن اور ایران میں بروئے کار، جاسوسی کے علاوہ میزائل حملے میں استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوجی جنرل نے پہلی بار انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل تقریبا دو دہائیوں سے ڈرون کا استعمال جاسوسی کے ساتھ ساتھ میزائل حملوں کے لیے بھی کر رہا ہے۔ تاہم اس سے پہلے اس بارے میں کبھی کھلے عام ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیلی جرنیل نے بتایا ڈرونز 'اپنے ملک کے اندر بھی' فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیے گئے ہیں اور ملک سے باہر دوسرے ممالک کے اندر اور سرحدوں پر بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایران اور سوڈان میں بھی دور دراز کے اہدف کے خلاف ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں۔

اسی طرح غزہ میں ڈرونز کا استعمال جاسوسی کے لیے بھی کیا جاتا رہا ہے اور حملوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا اور غزہ میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اس سارے عرصے میں اسرائیل نے میڈیا پر سنسر عاید کیے رکھا کہ ڈرونز کے بارے میں خبر باہر نہیں آنی چاہیے۔

رواں سال ماہ جولائی میں اسرائیلی سنسر نافذ کرنے والے حکام نے سنسر نرم کر دیا کہ اب مسلح ڈرونز کے بارے میں خبریں دی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے اسرائیلی قابض فوج کا توپ خانہ اور ڈرون طیاروں کو ڈیل کرنے والے مشترکہ طور پر کارروائی کرتے ہیں۔ ایک طرح سے اسرائیلی قابض فوج کی آرٹلری کور کو مدد دینے کے لیے اسرائیلی فضائیہ یہ ڈرون حملے کرتی ہے۔

اسرائیلی جرنیل نے ایک انڈسٹریل فورم سے خطاب کرتے ہوئے انکشافات کیے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی اعلیٰ فوجی افسر نے اس بارے میں پبلک فورم پر بات کی اور بتایا کہ بغیر پائلٹ کے مسلح ڈرون بھی اسرائیلی فوج کے استعمال میں عرصے سے ہیں۔

اسرائیلی فوجی افسر نے کہا ۔ اس سے پہلے میں اس بارے میں بات نہیں کر سکتا تھا، آج کھلے عام اس موضوع پر بات کر سکتا ہوں۔

جنرل نیری ہورووٹز نے تل ابیب میں اسرائیلی ڈیفنس میگزین کی سالانہ تقریب سے خطاب کے دوران کہا ' ڈرون طیاروں کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی 'فائر پاور' میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ یہ جاسوسی کے لیے بھی بہت کارآمد ثابت ہوا ہے۔

خصوصاً غزہ میں اس سے جاسوسی اور فوری ایکشن کے حوالے سے موثر کام لیا جاتا ہے۔ غزہ سے راکٹ فائر کرنے والوں کا ڈرون نہ صرف ان کے راکٹ فائر کرنے سے پہلے پتہ چلاتا ہے بلکہ انہیں نشانہ بھی بنا ڈالتا ہے۔

اسرائیلی جرنیل نے انکشاف کیا مئی 2012 میں مصر کی طرف سے انتہا پسندوں نے اسرائل کے جنوبی بارڈر سے حملہ کیا اور مسلح وہیکل ہائی جیک کر لیا، انہیں بعد ازاں ڈرون سے ہی مارا گیا تھا۔

انہوں نے کہا یوکرین کی فوج روسی فوجیوں پر ڈرون چلا رہی ہیں وہ ٹیکنالوجی ہمارے پاس بھی ہے۔ اسرائیل آنے والے دنوں میں اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کو آگے بڑھائے گا۔ اپنی ڈرون فورسز میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ اس ڈرون فورس میں 30 فیصد خواتین ہیں۔

ایک اور فوجی افسر عمری دور نے کہا اسرائیل کی فوج کی پروازوں کے 80 فیصد وقت میں ڈرون شامل ہوتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے ابھی بھی ڈرون بنانے والے اداروں کو خبر دار کیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی عوامی سطح پر نمائش نہ کریں۔ اسی وجہ سے اس تقریب کے دوران ڈرون طیارے کا ماڈل تک سامنے لایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں