سعودی سکالر کو وفات کے بعد برطانوی یونیورسی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری مل گئی

مجھے اپنے شوہر پر فخر ہے: اہلیہ کا ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برطانیہ میں سعودی ثقافتی اتاشی ڈاکٹر امل فطانی نے اتاشی کی ایک ٹیم کو برمنگھم یونیورسٹی کے شعبہ مینجمنٹ سے ڈاکٹریٹ کے طالب علم ترکی الخنفری القحطانی کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی تقریب میں شرکت کی ہدایت کردی۔ ترکی القحطانی کینسر کے سبب ڈاکٹریٹ کی ڈگری وصول کرنے سے قبل ہی وفات پا گئے تھے۔

اتاشی کے نمائندوں نے برمنگھم یونیورسٹی کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ترکی القحطانی کیلئے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ اس سے ان کے خاندان اور ساتھیوں پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔

اشتہاری مواد

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی ترکی القحطانی کے شعبہ مینجمنٹ سے گریجویشن کی تکمیل کا اعلان ہوا تو القحطانی کے ساتھی طلبا و طالبات سے غمزدہ تھے۔ ساتھیوں نے ڈگری حاصل کرنے سے قبل ہی ترکی القحطانی کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

پہلا حامی

سکالرشپ حاصل کرنے والے القحطانی کی اہلیہ کے ساتھ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں اپنے شوہر پر فخر ہے۔ انہوں نے کا مجھے امید تھی کہ اس اہم موقع پرمیرے شوہر موجود ہوں گے لیکن حالات نے انہیں یہاں اپنی ڈگری وصول کرنے سے روک دیا۔ میرے شوہر سکالرشپ کے دوران اللہ کے بعد میرے پہلے حامی تھے، وہ میرے ساتھی بھی تھے اور انہوں نے میری تعلیم مکمل کرنے میں میری پوری مدد کی تھی۔ ہم دونوں نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف سٹرلنگ میں انسانی وسائل میں ماسٹر کی ڈگری میں اکٹھے تعلیم حاصل کی۔ وہاں ہم دونوں کے درمیان بڑا اچھا تعاون رہا۔ ہم وہاں سے ایک ساتھ ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی اور پھر میں نے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔

بیماری.. اہم موڑ

القحطانی کی اہلیہ ڈاکٹر منیرہ نے بتایا کہ اپنے پی ایچ ڈی کے پہلے سال میں القحطانی کو کینسر کی بیماری کا پتہ چلا۔ یہ خاندان کی زندگی کا بڑا اہم موڑ تھا۔ اس موقع پر ڈگری مکمل کرنے کیلئے زیادہ ہم آہنگی کی ضرورت تھی۔ وہ مرحلہ جو ان کی بیماری کی وجہ سے کبھی بھی آسان نہیں تھا، لیکن یہ بمیاری بھی انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے سے نہیں روک سکی، وہ ہر اس چیز کے پابند رہے جس کی تعلیم جاری رکھنے میں انہیں ضرورت تھی۔ وہ اپنی غیر معمولی کوشش کے ساتھ علم کے حصول کیلئے کوشاں رہے۔

صبر اور عزم

ڈاکٹر منیرہ نے اپنے شوہر کے متعلق مزید بتایا کہ میں نے اپنے شوہر سے صبر، استقامت، عزم اور اہداف کے حصول کے لیے اللہ پر بھروسہ سیکھا۔ میں نے سیکھا کہ علم کی تلاش ایک اعزاز ہے جو صرف وہی حاصل کر سکتا ہے جو اس کیلئے محنت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ بہت مشکل وقت تھا کیونکہ میں انہیں تکلیف میں دیکھتی تھی ، وہ سو نہیں پاتے تھے۔ وہ کہتے تھے میں جس تکلیف سے گزر رہا ہوں یہ ایک آزمائش ہے اور تندرستی انمول چیز ہے۔ آخر میں طویل علالت کی وجہ سے وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کی خواہش کرتے اور اپنے بچوں کو دیکھنے اور ان کے ساتھ والد کے طور پر لمحات گزار کر لطف اندوز ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے۔

گریجویشن کا مرحلہ

ڈاکٹر منیرہ اس وقت امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے کالج آف اکنامکس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا میری کامیابی میں اللہ کے بعد جس کا سب سے بڑا ہاتھ ہے وہ میرے شوہر ہیں۔

ڈاکٹر منیرہ نے بتایا کہ ان کے شوہر بیماری کے باوجود بھی کس طرح کام کرتے تھے، وہ اپنے خیالات کو خط میں لکھتے تھے۔ خط مکمل ہونے تک ہم ملکر کام کرتے تھے۔ ان کے اس کام میں آٹھ سال لگ گئے اور یہ ایک بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ اس دوران کام ملتوی ہوتا، رکاوٹ آتی، پھر کام شروع کرنا ہوتا، اس بیماری کے باعث وہ بولنے سے بھی معذور ہوگئے اور جدوجہد جاری رکھی۔

ڈاکٹر منیرہ نے اپنے شوہر کی ڈاکٹریٹ کے متعلق ٹویٹر پر پوسٹ کی جس میں انہوں نے کہا مجھے اپنے شوہر پر فخر ہے۔ ہمارے بچوں اور سارے خاندان نے بھی ان کیلئے فخر کا اظہار کیا ہے۔ میں سعودی سفارتخانے کی بھی شکرگزار ہوں جس نے خادم حرمین شریفین کی ہدایت پر بیرون ملک اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھا۔

یاد رہے قحطانی نے 2003 میں کنگ سعود یونیورسٹی کے کالج آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز سے پولیٹکل سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ 2011 میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سٹرلنگ سے انسانی وسائل کے شعبے میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے 2015-2022 کے دوران شعبہ معاشیات اور مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف برمنگھم، برطانیہ سے مینجمنٹ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں