اتوار کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ صبح مشرقی شام میں امریکی افواج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کیے گئے فضائی حملے میں داعش کے دو سیینیر کمانڈر مارے گئے۔
قیادت نے ایک بیان میں کہا کہ ایک رہ نما مشرقی شام میں تنظیم کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ فضائی حملے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے وسیع منصوبہ بندی کی گئی۔
اس نے مزید کہا کہ ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے نتیجے میں عام شہریوں میں کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔
بیان میں سینٹرل کمانڈ کے ترجمان جو بکینو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ داعش خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔ امریکی فضائی حملہ تنظیم کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے سینٹرل کمانڈ کے غیر متزلزل عزم کی تصدیق کرتا ہے۔"
بکینو نے کہا کہ ’داعش‘ کے رہ نماؤں کی ہلاکت سے مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے والے حملوں کی منصوبہ بندی اور انجام دینے کی تنظیم کی صلاحیت متاثر ہو گی۔"
سنہ 2019ء میں ’داعش‘کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے امریکی افواج اور واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد تنظیم کے رہ نماؤں کا تعاقب کر رہا ہے،اور وقتاً فوقتاً وہ شام میں تنظیم کے مشتبہ ارکان کے خلاف چھاپے، یا فضائی حملے کرتے رہتے ہیں۔
-
سعودی عرب کا داعش کیخلاف عالمی اتحاد کے آئندہ وزارتی اجلاس کی میزبانی کا اعلان
سعودی عرب نے نے ہیگ میں منعقد داعش کو شکست دینے کیلئے بین الاقوامی اتحاد کے سیاسی ...
مشرق وسطی -
کابل میں پاکستانی سفارتکار پر حملہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی
شفاف تحقیقات کرائی جائیں: پاکستان، کسی کو سفارتی مشنز کی سلامتی خطرے میں ڈالنے ...
بين الاقوامى -
’داعشی دلہن‘ کے بارے میں اس کے قیدی شوہر کے چونکا دینے والے بیانات
شمیمہ بیگم جنہیں جسے "داعش کی دلہن" کہا جاتا ہےخبروں میں رہنے کے بعد اب ان کے شوہر ...
مشرق وسطی