قیدیوں کو پھانسی دینے کے خدشہ کے باعث ایرانی جیل میں جھڑپیں

درجنوں افراد کو پھانسی کی تیاری کے بعد قیدیوں اور ’’کرج‘‘ جیل کے حکام میں جھڑپیں ہوئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ٹی وی چینل ’’ ایران انٹرنیشنل‘‘ نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ شمالی ایران کی کرج جیل میں حکام کی جانب سے متعدد قیدیوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد کے ارادے کی اطلاعات کے بعد جیل میں مظاہرہ کیا گیا اور قیدیوں اور جیل حکام میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ٹی وی نے بتایا کہ "منشیات کی سمگلنگ" کے الزام میں درجنوں افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کی تیاریوں کے بعد جیل افسران اور قیدیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ احتجاجی تحریک سے منسلک پہلی پھانسی پر شدید بین الاقوامی ردعمل کے بعد تہران حکومت کو ہلا ڈلانے والے مظاہروں کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں کو پھانسی دئیے جانے کا خطرہ ہے۔

11 افراد کو سزائے موت سنائی

ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ مظاہروں کے سلسلے میں اب تک 11 افراد کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 12 دیگر افراد کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن پر انہیں سزائے موت کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

ایران میں سینٹر فار ہیومن رائٹس، جس کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک میں ہے، کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہادی قائمی نے کہا ہے کہ جب تک غیر ملکی حکومتیں ایران پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ کو نمایاں طور پر نہیں بڑھاتی دنیا اس قتل عام کو اجازت دینے عمل میں شریک سمجھی جائے گی۔

یاد رہے ایران حکام نے احتجاج میں شریک دو افراد محسن شکاری اور رہنورد کی سزائے موت پر عمل کرتے ہوئے انہیں پھانسی دیدی ہے۔ ان دونوں کو پھانسی دئیے جانے کو عالمی اداروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبر دار کیا ہے کہ ایرانی حکومت 22 سالہ ماہان صدر کو انتہائی غیر منصفانہ مقدمے اور احتجاج کے دوران چاقو چلانے کے جرم میں سزا کے صرف ایک ماہ بعد پھانسی دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

ایمنسٹی نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ نوجوان سہند نور محمد زادہ جسے احتجاج کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں