’جذبے اور لگن نے فلم کی دنیا میں عالمی شہرت تک پہنچایا‘

سعودی فلم ہدایت کار عبدالرحمان یحییٰ کی اپنے فلمی کیریئرکے بارے میں تفصیلی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

"عزائم اور جذبہ کامیابی کا سنگ بنیاد ہوتا ہےاوریہ ایک حقیقت ہے کہ ناکامیاں ہی کامیابیوں کا زینہ بنتی ہیں‘‘۔ یہ الفاظ سعودی عرب کے فلم ڈائریکٹر عبدالرحمٰن یحییٰ کے ہیں جن کی سینما کی دنیا میں مسلسل محنت اور لگن نے آج انہیں دُنیا میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

ہدایت کار عبدالرحمان یحییٰ نےاپنے فلمی کیریئر کےحوالے سے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ سیر حاصل گفتگو کی۔

عبدالرحمان یحییٰ اپنی جدوجہد اور کام کے تسلسل کی بہ دولت آج سینما اور فلم سازی کی بلند مقام پر فائز ہیں۔ ان کا شمارنہ صرف سعودی عرب بلکہ عرب دنیا کی ممتاز فلمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے فلم کی ہدایت کاری میں کئی بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کر رکھے جن میں "طویق" اور "تسویف" فلموں میں شاندار کار کردگی پرانہیں ایوارڈز سے نوازا گیا۔ان کی فلموں کو5 بین الاقوامی ایوارڈز ملے اور سات ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا۔ ہالی ووڈ فیسٹیول میں انہیں بہترین فلم ڈائریکٹر، لاس اینجلس اور گلوبل فلم فیسٹیولز میں بہ طور بہترین ڈائریکٹر اور رائل وولف بہترین ڈائریکٹر کے طور پر ایوارڈز جاری کیے گئے۔

ہدایت کاری کا آغاز

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میں نے 2006ء میں اپنے ہدایت کاری کیرئیر کا آغاز کیا جب میں آئیڈیا سے فلم تک فلمیں بنا رہا تھا۔ میں نے انہیں اپنے بھائیوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ فلمایا اور میں 2011 تک اسی طرح کام کرتا رہا۔ اس کے بعد امریکا میں ہدایت کاری کی دنیا میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ امریکا کی لاس اینجلس اور نیویارک کی "فلم اکیڈمی" میں فلم کی تعلیم حاصل کی۔ وہاں سے میں نے ہدایت کاری اور فلم سازی کا صحیح طریقہ سیکھا‘۔

اصلی شروعات

عبدالرحمان یحییٰ نے مزید کہا کہ میں نے بہت سے کام کیے ہیں۔ مختصر فلموں، دستاویزی فلموں اور اشتہارات میں کام کیا، لیکن حقیقت پسندانہ شروعات فلم "طویق" سے ہوئیں ۔ سچ یہ ہے کہ اسی فلم سے میرے فلمی سفر کا حقیقی آغازہوا۔ میں نے 3 انٹرنیشنل ایوارڈز جیتے اورمیری فلمیں 5 ایوارڈزکے لیے نامزد کی گئیں۔

اپنے فنی کیریئر میں سب سے اہم رکاوٹوں کے بارے میں یحییٰ کہتے ہیں کہ "فلم ساز کے لیے مستقل رکاوٹ سپورٹ کی کمی، پیشہ ورانہ عملے اور اداکاروں کی عدم دستیابی ہوتی ہے جن کے ذریعے آپ ایک پیشہ ور فلم بنا سکتے ہیں۔"

ہدایت کاری کے فن کے بنیادی اصول

ہدایت کارعبدالرحمٰن نے کہا کہ ہدایت کاری کے فن کی بنیادی باتیں ایک کامیاب آئیڈیا کی موجودگی میں مضمرہیں۔ فلم کا عملہ،اداکاروں اور فلم سازی کے آلات، کیمروں کی کوالٹی، روشنی، آواز اور فلم بندی کے مقامات سب مل کر فلم کی اہمیت میں حصہ ڈالتے ہیں۔

انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ پیشہ ور سعودی ہدایت کاروں کی حقیقت اب بہت زیادہ بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ اب ریاست اور حکومت کی جانب سے بھی فلم کے شعبے کو بھرپور پذیرائی دی جا رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے فلم کمیشن قائم کیا گیا ہےجو فلموں کے لیے لاجسٹک معاونت کے ساتھ مالی مدد بھی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان دنوں ہم"ہم فلم "فزز" پر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے اس کے زیادہ تر مناظر کی عکس بندی مکمل کر لی ہے۔ اس میں اداکارہ عائشہ الرفاعی اور کلرز آف سنیما کلب کے متعدد ممبران شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں