عراق:2014 میں سیکڑوں کیڈٹس کے قتلِ عام کے جُرم میں داعش کے 14 افرادکو پھانسی کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق میں ایک عدالت نے سنہ 2014 میں سیکڑوں فوجی کیڈٹس کے قتلِ عام میں ملوّث 14 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔

عراق میں داعش کا یہ بدترین قتل عام تھا۔داعشی جنگجوؤں نے جون 2014 میں شمالی شہرتکریت میں واقع اسبائیکرفوجی اڈے سے 1700 شیعہ کیڈٹوں کو اغوا کیا تھا اور انھیں موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔

عدالتی حکام نے ایک بیان میں کہا کہ دارالحکومت بغداد میں الرسافہ کریمنل کورٹ نے 2014 میں کیمپ سبائیکرکے قتل عام میں ملوّث 14 مجرم دہشت گردوں کو تختہ دارپرلٹکانے کا حکم دیا ہے۔

ان 14 افراد کے پاس سزائے موت کے خلاف اپیل کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔سزائے موت کے احکامات پرعمل درآمد کے لیے عراقی صدرکی منظوری ضروری ہے۔واضح رہے کہ 2016ءمیں 36 افراد کوقتل عام میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔

داعش نے عراق کے شمالی علاقوں پرقابض ہونے کے ابتدائی دنوں میں اسبائیکرکا قتل عام کیا تھا۔ اس وقت تک داعشی جنگجوؤں نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا اور اسے اپنے مضبوط گڑھ میں تبدیل کر دیا تھا -عراقی فوج اور ایک بین الاقوامی اتحاد نے 2017 میں داعش کو موصل اور دوسرے شہروں سے نکال باہرکیا تھا۔

داعش کی جانب سے جاری کردہ پروپیگنڈا تصاویر کے مطابق دہشت گردوں نے عراقی فوج میں نئے بھرتی کنندگان کو ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔انھوں نے کچھ لاشوں کوتکریت سے گذرنے والے دریائے دجلہ میں پھینک دیا تھا اورمتعدد لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کردیاتھا۔

اس قتلِ عام نے شیعہ رضاکاروں کو دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی ملیشیا الحشدالشعبی میں شمولیت کی ترغیب دی تھی۔

اب اگرچہ عراقی حکام زیرحراست افراد کے اعداد و شمار فراہم نہیں کرتے لیکن داعش سے روابط کے الزام میں کئی ہزار افراد عراقی جیلوں میں قید ہیں۔اقوام متحدہ نے 2018 میں تخمینہ لگایا تھا کہ 12،000 سے زیادہ عراقی اور غیر ملکی "جنگجو" عراقی جیلوں میں قید ہیں۔

اس سے قبل عراق پرانسانی حقوق کی تنظیموں نے مبیّنہ دہشت گردوں کے سمری ٹرائل پرکڑی تنقید کی تھی۔ ان کا کہناتھا کہ تشدد کے تحت یا مناسب دفاع کے بغیر حاصل کیے گئے اعترافی بیانات کا استعمال کرتے ہوئے ان مقدمات کی تیزرفتارسماعت کی جارہی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2021 میں عراق میں تمام جرائم کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں