خامنہ ای کی تصاویر نے انسانی حقوق کارکنوں کو مشتعل کر دیا
ایرانی سپریم لیڈر سینکڑوں باحجاب لڑکیوں کی نماز میں امامت کررہے، بچوں کے دماغ صاف کئے جارہے: ناقد
ایران میں لڑکیاں سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کی نگرانی میں رہتی ہیں، ایسا ان کے کپڑوں کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے یا انکے رویہ کی بنا پر بھی ۔ ان خواتین میں سے درجنوں جیلوں میں ہیں۔ خاص طور پر وسط ستمبر میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت سے شروع ہونے والے مظاہروں کے آغاز کے بعد سے گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی رہنما نے ایک پارٹی کو سپانسر کیا ہے جس میں سیکڑوں لڑکیاں شامل ہیں جن کی عمریں 13 سال سے زیادہ نہیں ہیں ، یہ لڑکیاں حجاب پہننے کا جشن منا رہی ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے دفتر نے جمعہ کے روز تصاویر اور ویڈیو جاری کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت تہران خامنہ ای نماز میں ان بچیوں کی امامت بھی کر ا رہے ہیں۔
تاہم ان تصاویر کو ملک میں خواتین کے حقوق کی حمایت کرنے والے متعدد ایرانی کارکنوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنقید کرنے والوں کی قیادت حزب اختلاف کی خاتون کارکن مسیح علی نجاد کر ر ہی ہیں۔ وہ برسوں سے ایران سے باہر مقیم ہیں۔
مسیح علی نجاد جنہیں حال ہی میں قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا نے کہا یہ مجھے اپنے بچپن کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا ایرانی حکومت نے ملک میں خواتین کو سات سال کی عمر سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے آزاد دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا یہ ’’ بچوں کے ساتھ زیادتی‘‘ کی جارہی ہے۔
The dictator of Iran, Khamenei, is seen brainwashing young girls. It reminds me of my childhood.
— Masih Alinejad 🏳️ (@AlinejadMasih) February 4, 2023
This regime took us, women of Iran, hostage from the age of seven and wrote its own ideology on our bodies.
The free world must take a strong action against this child abuse. pic.twitter.com/y3xLKXJE3b
انسانی حقوق کے لیے سرگرم دیگر کارکنوں نے کہا ان مناظر کو پیش کرکے حکومت خامنہ ای کو ایک مقبول رہنما کے طور پر ظاہر کرنے کے لیے بے چین ہے۔ ان مناظر کو ایک ایسے وقت میں سامنے لایا جا رہا ہے جب ایران میں بڑی تعداد میں نوجوان خواتین سڑکوں پر موجود ہیں اور ان کی تصاویر کو پھاڑ رہی اور اظہار کر رہی ہیں کہ ملک میں جبر کا راج ہے۔
مہسا امینی نے حجاب نہ کرنے پر گرفتار ہوکر 16 ستمبر کو پولیس کی حراست میں موت کو گلے لگایا تو پورے ایران میں احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔ ملک بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل پر خواتین کے لباس کے سخت قوانین کے خلاف احتجاج کیا۔ ان احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے لیے ایرانی حکومت نے پر تشدد کارروائیاں شروع کیں اور 400 سے زاید مظاہرین کو فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ قتل کے گئے ا حتجاجی کارکنوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔