طالبات کو زہردینے کے واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پر ایرانی فورس کا تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں گذشتہ نومبر سے ملک میں اسکول کی طالبات کو متاثر کرنے والی زہر کی لہر کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے منگل کے روز ایران میں والدین، اساتذہ اور یونیورسٹی کے طلباء نے مظاہرے کیے۔ اس دوران بعض مقامات پرمظاہرین کو پاسداران انقلاب کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

سماجی کارکنوں نے اطلاع دی کہ علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے محافظوں نے جو پاسیج اور پاسداران انقلاب کے ارکان پر مشتمل ہے نے احتجاج کرنے والے طلباء پر حملہ کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ محافظوں کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور ان میں سے متعدد کو گرفتار کر لیا۔ خدشہ ہے کہ انہیں سکیورٹی سروسز کے حوالے کر دیا جائے گا۔

جب کہ ایک محافظ کو ویڈیو کلپس میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا"ان سب کو اسکول سےنکال دینا چاہیے۔"

یہاں بوکو حرام ہے۔

سیکڑوں ایرانی شہریوں اور طالبات نے کل منگل کے روز طالبات کو زہر دینے کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا۔

مختلف علاقوں میں احتجاج کرنے والے خاندانوں اور اساتذہ نے حکام پر تنقید کرتے ہوئے نعرے لگائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

شمال مشرقی شہر مشہد میں ایک اجتماع میں اساتذہ نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: "یہ ایران کا بوکو حرام ہے، جہاں اسکول کی طالبات کو زہر دیا جاتا ہے۔"

کردستان کے دارالحکومت سنندج میں مظاہرین نے ’’طالبان مردہ باد خواہ ایران ہو یا افغانستان‘‘ کے نعرے لگائے۔

یہ احتجاجی مظاہرے گذشتہ نومبر میں شہر قم سے پھوٹنے والی بچیوں کو زہر دینے والی لہر کے بعد سامنے آئے تھے، جب زہریلی گیس سے متاثرہ تقریباً 800 طالبات کو تھکاوٹ، آنتوں میں درد اور بیہوش ہونے کے واقعات کاسامنا کرنا پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں