اسرائیل میں سیکورٹی خدشات کے درمیان نیتن یاہو نے برلن کا دورہ مختصر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ انہوں نے اس ہفتے جرمنی کے طے شدہ دورے کی مدت کو مختصر کر دیا ہے۔ دفتر نے پہلے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے قومی سلامتی کی پیش رفت پر مشاورت کی ہے۔ کیا دورے کے دورانیے کو کم کرنے اور مشاورت کے درمیان کوئی ربط تھا اس حوالے سے وضاحت نہیں کی گئی۔ نیتن یاہو کو پہلے منصوبے کے تحت بدھ کو جرمنی کے لیے روانہ ہونا اور جمعہ کو واپس آنا تھا۔ تاہم دورہ کو مختصر کرتے ہوئے نتین یاھو اب جمعرات کو ہی اسرائیل واپس پہنچ جائیں گے۔

نیتن یاھو کی سربراہی میں دسمبر میں اقتدار سنبھالنے والی قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کی مخلوط حکومت کو عدلیہ میں مجوزہ اصلاحات پر بے مثال احتجاج کا سامنا ہے۔ دریں اثنا نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ انہوں نے قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح پر بات چیت کی ہے تاہم اسرائیلی حکام نے اس گفت و شنید پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

یاد رہے پیر کے روز ایک اسرائیلی کار ڈرائیور مغربی کنارے کے قریب ایک سڑک پر ہونے والے دھماکے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

نیتن یاہو کی برلن روانگی کے حوالے سے ان کی حکومت کے خلاف مظاہرین نے "واپس مت لوٹو" کے نعرے بھی لگائے ۔ ’’بن گوریون‘‘ ایئر پورٹ کی طرف جانے والی سڑک کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پوسٹر لٹکا دیئے گئے جن پر یہی جملہ لکھا ہوا تھا۔ عدالتی اصلاحات کے خلاف دو ماہ سے زائد عرصے تک مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ عدالت کے حوالے سے نئے قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد سیاسی طاقت کے حق میں عدلیہ کو کمزور کرنا ہے۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔

بدھ کی سہ پہر اسرائیلی پرچم لہرانے والی گاڑیوں کا ایک قافلہ روانہ ہوا اور تل ابیب کے قریب ہوائی اڈے کے اطراف کی سڑکوں پر گھومتا رہا۔ قافلے کا یہ گشت نیتنیاہو کے جرمنی روانہ ہونے سے چند گھنٹے قبل ہوا تھا۔ ا س قافلے میں وہ سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے جنہوں نے 1967 میں یوگنڈا میں عنتیبی آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ اس آپریشن میں فلسطینیوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرایا گیا تھا۔ اس آپریشن میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ’’یونی‘‘ کا بھائی بھی مارا گیا تھا۔

عدلیہ اصلاحاتی منصوبے کے ناقدین اپنی مخالفت کا جواز پیش کرتے ہیں کہ ان اصلاحات کا مقصد سیاست دانوں کو عدلیہ کی قیمت پر مزید اختیارات دینا اور نیتن یاہو کو تحفظ دینا ہے۔ نیتن یاھو کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا ہے۔

منگل کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایکٹ کی پہلی پڑھائی میں اس استثنائی شق کی منظوری دے دی جو پارلیمنٹیرینز کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم کرنے کا اختیار دیتی ہے ۔ پارلیمنٹ نے اس ماہ کے شروع میں فرسٹ ریڈنگ میں ایک اور مسودہ قانون کی منظوری دی جو وزیر اعظم کو اپنا کام انجام دینے سے قاصر تصور کرنے کے امکان کو بہت حد تک کم کر دیتا ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے اتحادی منتخب سیاست دانوں اور سپریم کورٹ کے غیر منتخب ججوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بحال کرنے کے لیے اصلاحات کو ضروری سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت میں ثالثی کی کوشش کی ہے۔ خاص طور پر اس بل کو اسرائیل میں جمہوریت کی بنیادوں کے لیے خطرہ قرار دینے کے بعد انہوں نے ثالثی کی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں