اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ پیرس میں تقریر کرنے کے لیے پوڈیم پر چڑھے تو اس پر اردن کے الحاق پر مبنی نام نہاد اسرائیلی سرزمین کا نقشہ بھی موجود تھا۔ اردن کی جانب سے وزیر کی اس اشتعال انگیزی کے خلاف اردن کی عوام اور حکومت کی جانب سے رسمی احتجاج کیا گیا ہے
سموٹریچ نے اتوار شام کے وقت تقریب میں شرکا کے سامنے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ فلسطینی عوام جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ یہ تو سو سال سے بھی کم پرانی ایجاد ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں‘‘
رسمی احتجاج
اردن کی وزارت خارجہ نے پیر کو اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی پیرس میں اتوار کو منعقد ایک تقریب میں شرکت کے دوران اسرائیل کے غلط نقشے کے استعمال کی شدید مذمت کی ۔اس نقشے میں اردن کی سلطنت اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا تھا۔
ایک سرکاری بیان میں جس کی ایک کاپی ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو موصول ہوئی اردن کی وزارت نے کہا کہ وزیر کا طرز عمل لاپرواہی پر مبنی اور اشتعال پر اکسانے والا ہے۔ یہ بیان بین الاقوامی اصولوں اور اردن اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزی کی نمائندگی کر رہا ہے۔
وزارت کے سرکاری ترجمان سنان المجالی نے کہا کہ ان کا ملک انتہا پسند اسرائیلی وزیر کی طرف سے برادر فلسطینی عوام اور ان کے وجود کے حق، خود مختاری کے حوالے سے ان کے تاریخی حقوق کے خلاف دیے گئے نسل پرستانہ اور انتہا پسندانہ اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتا ہے۔ ایسے انتہا پسند نسل پرستانہ اقدامات کو خطرناک قرار دیا گیا۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیلی وزیر کے انتہا پسندانہ اور اشتعال انگیز اقدامات اور بیانات کی مذمت کی جائے۔ یہ بیان انسانی اقدار اور اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
سفیر کی طلبی
اردن کی وزارت خارجہ اور غیر ملکی امور کے ایک سرکاری ذریعے نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیر خزانہ کے نسل پرستانہ بیانات کے بعد عمان میں اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔