ہمیں پانی کے ’’غیر معمولی‘‘ بحران کا سامنا ہے: عراقی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے صدر عبداللطیف رشیدکا کہنا ہے کہ ان کا ملک پانی کے ایک "غیر معمولی" بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ خوراک کے تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور "خطرناک" شرح سے نقل مکانی کا سبب بن رہا ہے۔

صدر رشید نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس کے دوران کہا کہ "پڑوسی ممالک کی آبی پالیسیوں کی وجہ سے بنیادی آبی وسائل میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے"۔ عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر نے خشک سالی کے بڑھنے سے عوام اور ملکی معیشت کو لاحق خطرات پرکھل کر بات کی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی کمی عراق میں زرعی خوراک کے نظام، ماحولیاتی نظام اور سماجی استحکام کے لیے خطرات کا باعث ہے۔

عراقی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پانی کے بحران کے پائیدار حل تلاش کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ توقع ہے کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے ان کے ملک کی پانی کی ضروریات اگلی دہائی میں بڑھ جائیں گی۔

پانی کے بحران کا سامنا کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل

قابل ذکر ہے کہ عراق پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے، جس میں وہ ترکیہ اور ایران پر بین الاقوامی معاہدوں کی "عدم تعمیل" اور اپنے پانی کے حصےکی "خلاف ورزی" کا الزام لگاتا ہے۔ عراق کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملکوں ترکیہ اور ایران کے ڈیموں کی وجہ سے بغداد کو آبی قلت کا سامنا ہے۔

میسوپوٹیمیا میں حال ہی میں دریائے دجلہ اور فرات کے پانی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ عراقی حکام ایران اور ترکیہ کے ڈیموں کو قرار دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق عراق بھی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کی وجہ سے دنیا کے 5 سب سے زیادہ خطرے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں