سعودی عرب میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پروائرل ہونےوالی ایک ویڈیومیں الاحساء گورنری میں ایک اسکول کے اندر ایک طالب علم کو مبینہ طور پر یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
ویڈیوفوٹیج بنانے والےشخص نے انکشاف کیا ہے کہ ’اگر اس نے روتے ہوئے طالب علم کی آواز نہ سنی ہوتی تو شاید بچہ بدستور اندر بند رہتا اور کسی کی توجہ اس طرف نہ جاتی‘۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم اسکول کے بالائی کلاس رومز میں سے ایک کی کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالب علم اسکول کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا۔ بچے کا کہنا تھا کہ کمرے کا دروازہ باہر سے بند ہے اور میری پکار پر کسی نے
دروازہ نہیں کھولا۔
واقعے کی تحقیقات
درایں اثنا الاحساء میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف ایجوکیشن نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کی تصدیق کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
اپنے بیان میں انتظامیہ نے کہا ہے کہ یہ واقعہ مشرقی سعودی عرب کے شہر ہفوف کے ایک اسکول میں پیش آیا۔ انتظامیہ اس حوالے سے ضروری قانونی اقدامات کرے گی۔
-
انڈونیشیا: سعودی عرب کے زیراہتمام 1200 میٹر کا طویل ترین افطار دسترخوان
جزیرہ سوماٹرا میں تاریخی افطار دسترخوان کو گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرانے کی ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب: پہلی بار عمرہ سیزن کی پٹرولنگ گارد میں خواتین اہلکاروں کی شمولیت
رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران عمرہ سیزن میں پہلی بار سعودی عرب کی پٹرولنگ ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب: جعلی عمرہ مہم کو فروغ دینے والے 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پولیس نے 8 افراد کو جعلی عمرہ مہم چلانے کے جرم ...
مشرق وسطی