حزب اللہ کے جھنڈے لگانے پر لبنان اسرائیل کے درمیان سرحد پر کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں نے جمعہ کو دیر گئے حزب اللہ اور اسرائیلی سرحدی محافظوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی۔

یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب گذشتہ روز ایران اور عرب ممالک نے یوم القدس منایا اور حزب اللہ کے حامی اسرائیلی سرحد پر جمع ہوئے۔

یہ سالانہ یادگاری تقریب فلسطین کی حمایت میں منائی جاتی ہے اور اس سے قبل گذشتہ روز فلسطینی گروپوں نے لبنان کے برج البراجنہ پناہ گزین کیمپ میں پریڈ کی جو کہ حزب اللہ کا گڑھ ہے۔

بعد ازاں، حزب اللہ کے حامی جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ساتھ سرحدی باڑ کے قریب پہنچے اور وہاں گروپ کا ایک جھنڈا لگا دیا۔

لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فوج کی نائب ترجمان کنڈیس آرڈیل نے کہا کہ "اقوام متحدہ کے امن دستوں نے 50 یا 60 افراد کے ہجوم کو پتھر پھینکتے اور تکنیکی باڑ میں حزب اللہ کا جھنڈا لگاتے ہوئے دیکھا"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے "جوابا سموک اور سٹن گرینیڈ پھینکے۔"

اقوام متحدہ اور لبنانی فوجی نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا۔

ارڈیل نے کہا، "اس حساس وقت میں، ہم ہر کسی سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسی حرکت سے گریز کریں جو اشتعال انگیز سمجھی جائے اور صورت حال کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل، مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مہلک حملوں اور جھڑپوں کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی، لبنان اور شام میں اسرائیلی افواج اور عسکریت پسندوں کے درمیان سرحد پار سے فائرنگ کا سلسلہ بڑھا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے کہا ہے کہ سرحد پر مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوج کے بم لگنے سے ایک شخص زخمی ہو گیا۔

اس سے چند ہی گھنٹے قبل، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے ایک ٹیلیویژن بیان میں کہا تھا کہ ان کی جماعت لبنان میں کسی کو بھی نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کا مناسب پیمانے اور انداز میں جواب دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں