سعودی عرب میں اسد حکومت کی تنہائی ختم کرنے کے لیے ملاقاتیں جاری

قطر، کویت، سلطنت عمان، عراق اور مصر کے وزرائے خارجہ جدہ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

آج جمعہ کو قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی، کویت کے وزیر خارجہ شیخ سالم عبداللہ الجابر الصباح، سلطنت عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی، عراق کے وزیر خارجہ فواد محمد حسین اور مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری سعودی عرب کے جدہ ایئرپورٹ پر پہنچے۔ جہاں ان کا استقبال سعودی نائب وزیر خارجہ ولید بن عبدالکریم الخریجی نے کیا۔

یہ وزراء خارجہ سعودی عرب میں مشاورتی وزراتی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ اس مشاورتی اجلاس میں دمشق کی عرب ماحول میں واپسی کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔ شام کو عرب لیگ میں واپس لانے کے حوالے سے خطے میں ریاض اور تہران میں تعلقات کی بحالی کے بعد سے علاقائی سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب اور ایران میں تعلقات دوبارہ شروع ہونے سے خطے کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوگیا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں کئی عرب ممالک نے 2011 میں شامی حکومت کی جانب سے عوامی بغاوت کو کچلنے کے خلاف احتجاجاً اپنے سفارت خانے بند کر دیے اور شام سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔ بعد میں شام میں تنازع نے خونریز شکل اختیار کرلی تھی۔ عرب ریاستوں کی لیگ نے نومبر 2011 میں شام کی رکنیت معطل کر دی تھی۔

تاہم گزشتہ دو سالوں کے دوران شامی حکومت اور ابوظبی سمیت کئی دارالحکومتوں کے درمیان مفاہمت کے آثار نظر آئے ہیں۔ امارات نے شام سے سفارتی تعلقات بحال کرلیے۔ ریاض نے حکومت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان قونصلر خدمات دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

عرب لیگ میں واپسی

خلیج تعاون کونسل کا اجلاس جدہ میں ہو رہا ہے جس میں مصر، عراق اور اردن بھی شریک ہیں۔ یہ اجلاس سعودی عرب میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس سے تقریباً ایک ماہ قبل شامی حکومت کی عرب لیگ میں واپسی کے معاملے پر بات چیت کے لیے منعقد کیا جارہا ہے۔

بدھ کو سعودی عرب نے شام میں تنازع کے آغاز کے بعد سے پہلی مرتبہ شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد کا استقبال کیا تھا۔ اسی دوران ایک ایرانی وفد بھی سعودی عرب میں ایرانی سفارتی مشن کو دوبارہ کھولنے کی تیاری کے لیے موجود تھا۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ اور شامی وزیر خارجہ المقداد نے شام کے بحران کے ایک جامع سیاسی تصفیے کے حصول کے لیے ایسے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے جس سے اس بحران کے تمام اثرات ختم ہوجائیں اور قومی سلامتی کو حاصل یہ ایسے اقدامات ہوں جن سے شام کی اس کے عرب ماحول میں واپسی اور عرب دنیا میں اس کے فطری کردار کی بحالی بھی ہو جائے۔

ایک عرب سفارت کار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ "اس بات کا امکان ہے" کہ المقداد آج جدہ میں ہونے والے اجلاس میں شام کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے شرکت کریں گے ۔ سفارت کار نے واضح کیا کہ شریک ممالک کو ابھی تک اجلاس کا ایجنڈا موصول نہیں ہوا ہے۔

ایک اور سفارت کار نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب ان کوششوں کی مکمل قیادت کر رہا ہے لیکن خلیج تعاون کونسل کی چھتری تلے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی کم از کم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قطر شام کی عرب لیگ میں واپسی پر اعتراض نہ کرے اگر اس معاملے پر رائے شماری کی جائے۔ سفارتکار نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاملے پر متفقہ موقف کی توقع نہیں ہے۔

اجلاس میں دوحہ کی شرکت کا اعلان کرتے ہوئے قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو کہا تھا کہ شامی حکومت کے بارے میں قطری موقف میں تبدیلی بنیادی طور پر عرب اتفاق رائے اور ایک میدانی تبدیلی سے منسلک ہے۔

تاہم، قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کی شام ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ عرب لیگ میں شامی حکومت کی واپسی کے بارے میں بات چیت "قیاس آرائیاں" ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دوحہ کی نسبت سے دیکھیں تو شامی حکومت کی رکنیت معطل کرنے کی وجوہات اب بھی موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں