اسرائیلی فوج نے غرب اردن میں فلسطینی اسکول مسمارکردیا،یورپی یونین کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فورسز نے اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع فلسطینی طلبہ کے پرائمری اسکول کو حفاظتی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے منہدم کردیا ہے ،یورپی یونین نے اس اقدام پرکڑی تنقید کی ہے۔یورپی تنظیم ہی نے اسکول کی عمارت کی تعمیر کے لیے رقم مہیّا کی تھی۔

اسرائیلی فوج نے بیت لحم کے قریب واقع گاؤں جببت الذہیب میں اسکول کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزروں سے کارروائی کی ہے اور اس کی مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں پراشک آورگیس کے گولے داغے ہیں۔

یورپی یونین نے اسرائیلی فوج کی صبح سویرے اسکول کومسمار کرنے کی کارروائی پرحیرت کا اظہارکیا ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ اس اسکول میں پانچ جماعتوں کے کمرے تھے اور فی الوقت پینتالیس طلبہ زیرتعلیم تھے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگار نے بتایا کہ عمارت کو منہدم کرنے سے قبل ٹین شیٹس سے بنے ایک ٹریلراور جماعت کے کمروں کے مواد کو صاف کردیا یا ہٹا دیاگیا تھا۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی وزارت دفاع کے سویلین امور کےنگران ادارے کوگیٹ نے مارچ میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کی ایک عدالت کے حکم کے بعد اسکول کے احاطے کو خالی کرنے کے لیے دو ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ادارے نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ اسکول ’’غیرقانونی طورپرتعمیر‘‘ کیا گیا تھا اوراس سے ’تحفظ وسلامتی کے لیے خطرہ‘ پیدا ہوگیا تھا۔

فلسطینی وزارت تعلیم کے ایک اہلکاراحمد ناصر نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2019 میں اسرائیلی فوج نے اسی جگہ ایک اور اسکول کو منہدم کردیا تھا اوراس اسکول کی جگہ پرنئی عمارت تعمیرکی گئی تھی۔

ناصر نے اس کے دورافتادہ مقام کا ذکرکیا، جس کے بارے میں ان کاکہنا تھا کہ اس کی وجہ سے اسرائیلی فوج مقامی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کے لیے کارروائی نہیں کرسکتی تھی۔انھوں نے اسرائیل پرالزام عاید کیا کہ وہ ان کی زمینوں کوضبط کرنا چاہتا ہے۔

دریں اثناء یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسماری اور بے دخلیوں کی ان تمام کارروائیوں کوروک دے، جس سے فلسطینی آبادی کے مصائب میں اضافہ ہوگا اور پہلے سے کشیدہ ماحول مزیدتناؤ کاشکار ہوجائے گا۔

فلسطینی علاقوں میں یورپی یونین کے نمائندے کے دفتر نے ایک بیان میں کہا:’’اسکول کی مسماری بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہےاور بچوں کے تعلیم کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے‘‘۔

جنوری میں اقوام متحدہ کے ماہرین کےایک گروپ نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے عمارتی ڈھانچوں کو منظم اور دانستہ طورپرمسمار کرنے سے روکنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی عوام کے گھروں، اسکولوں، معاش اور پانی کے ذرائع پر براہ راست حملے اسرائیل کی فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو سلب کرنے اوران کے وجود کو خطرے میں ڈالنے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

بیت تمار کی مقامی کونسل کے سربراہ مبارک ظواہرہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز عدالت میں اپیل دائر ہونے تک اسکول کے انہدام پرروک لگانے پررضامندی ظاہر کی تھی لیکن اسرائیلی فوج نے اسے نظراندازکردیا اور اسے مسمارکردیا۔

وزارت تعلیم کے عہدہ دارناصر نے کہا کہ پیر کے روز اس مقام پرایک خیمہ لگایا جائے گا جس میں منہدم ڈھانچے کی جگہ ایک نیا بنیادی ڈھانچا ہوگا۔کوگیٹ اوراسرائیلی گروپ ریگاویم کا کہنا ہے کہ یہ انہدام دائیں بازو کی تنظیم کی جانب سے دائرکردہ ایک درخواست کا نتیجہ ہے جس کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے مشن میں ’اسرائیل کی قومی زمینوں کا تحفظ‘ شامل ہے۔ریگاویم نے ایک بیان میں فلسطینیوں پر الزام عاید کیا کہ وہ ’’اسکول کی تعمیر کوقانون کے خلاف انسانی بحران پیدا کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے1967 کی چھے روزہ جنگ کے بعد سے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔اس علاقے میں قریباً 29 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں اورقریباً 475،000 یہودی آباد کار بھی وہاں ریاست کی منظورشدہ بستیوں میں رہتے ہیں جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ان یہودی بستیوں کوغیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں