صدام کے دو بیٹوں کی مخبری کرنے والے نے امریکہ سے 25 ہزار ڈالر لیے: الدلیمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی گرفتاری سے قبل ان کی زندگی کے آخری ایام کے بارے میں مزید معلومات اور حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ صدام حسین کی دفاعی کمیٹی کے سابق سربراہ ڈاکٹر خلیل الدلیمی نے انکشاف کیا ہے کہ مخبر نے ان کے بیٹوں عدی اور قصی کے بدلے میں کتنے ڈالر لیے تھے اور ان دونوں کے مارے جانے کی اطلاع صدام حسین کو دی گئی تو انہوں نے کیا حیران کن تبصرہ کیا تھا۔

الدلیمی نے العربیہ پر پولیٹیکل میموری پروگرام کے کوارٹیٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ صدام کو عشائیہ پر ملنے والے دوستوں میں سے ایک اس وقت بہت الجھے ہوئے نظر آئے تو صدر نے ان سے وجہ پوچھی۔ اس دوست نے صرف یہ بتایا کہ "عدی شہید ہو گئے" تو صدام نے بہت مختصر جواب دیا، "عافیت ہے" پھر اس نے بتایا کہ قصی بھی اس کے بیٹے کے ساتھ مارا گیا ہے تو صدام نے پھر بھی یہی الفاظ ادا کیے۔

مزید برآں وکیل نے وضاحت کی کہ صدام کے دونوں بیٹوں کا مخبر وہی تھا جس نے انہیں اپنے ٹھکانے میں رکھا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس غدار شخص نے ان کے لیے پیسوں کا لالچ کیا اور امریکی افواج سے 25 ملین ڈالر وصول کیے تھے۔

وکیل کے مطابق اس شخص نے اپنی دھوکہ دہی کے لیے ایک بڑی رقم وصول کی تھی۔ الدلیمی نے "سیاسی یادداشت" کی پہلی دو اقساط کے دوران بعثی حکومت کے خاتمے، صدام کی پرواز اور اس کی گمشدگی کے بعد کے آخری دنوں کے بارے میں بہت سی دلچسپ معلومات کا انکشاف کیا ہے۔

واضح رہے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے 20 مارچ 2003 کو "آپریشن عراقی فریڈم" کے آغاز کے اعلان کو 20 سال گزر چکے ہیں۔ اس آپریشن میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں اور 40 ہزار برطانوی فوجیوں نے عراق پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کا جواز یہ بنایا گیا تھا کہ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں لیکن بعد میں فورسز کو عراق میں ایسے کوئی ہتھیار نہیں ملے تھے۔

حملے کے تین ہفتے بعد 9 اپریل کو عراق میں صدام حسین کی بعثی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد صدام حسین 8 ماہ روپوش رہے۔ پھر امریکی افواج نےانہیں ڈھونڈ لیا اور ان پر مقدمہ چلایا تھا۔ صدام حسین کو دسمبر 2006 میں پھانسی دیدی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں