سرحدی جھڑپ میں اسرائیل کی جوابی فائرنگ کا نشانہ بننے والے مصری فوجی کی لاش واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز مصر اور اسرائیل کی سرحد پر پیش آنے والے سکیورٹی واقعے میں ہلاک ہونے والے مصری فوجی کی لاش قاہرہ کے حوالے کر دی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے کے مطابق "22 سالہ مصری ملٹری سکیورٹی اہلکار، جس کی شناخت نام محمد صلاح ابراہیم کے نام سے کی گئی تھی، کی لاش واپس کر دی گئی ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر ابھی تک مصری حکام نے اس کی لاش کی وصولی کی تصدیق نہیں کی۔

ہفتے کے روز مصر نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر تعینات ایک سکیورٹی اہلکار نے حفاظتی باڑ توڑنے کے بعد فائرنگ کر کے تین اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی جوابی فائرنگ سے مصری اہلکار بھی مارا گیا تھا۔

مصر کی مسلح افواج کے ترجمان کرنل غریب عبدالحافظ نے فیس بک پر بیان میں کہا ’’کہ اسرائیل کے ساتھ سرحد پر کارروائی ہفتے کی صبح منشیات کی سمگلنگ کرنے والے عناصر کے تعاقب کے دوران ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے علاقے کی تلاشی لی جا رہی ہے اور معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی واقعے کے حوالے سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اتوار کے روز ہزاروں اسرائیلیوں نے ان تین اسرائیلی فوجیوں کی آخری رسومات میں شرکت کی جو مصر کی سرحد پر مارے گئے تھے۔ اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس نایاب اور سنگین واقعے کے حالات کی "گہرائی سے تحقیقات" کرے گا، جب کہ مصری حکام نے اس سلسلے میں اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں تصدیق کی کہ اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔ انہوں نے اسے ’’خطرناک‘‘ اور ’’غیر معمولی‘‘ پیش رفت قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں