مغربی کنارا: اسرائیلی فوج سے جھڑپوں میں 6 فلسطینی زخمی

رام اللہ میں بڑی تعداد میں فوج ایک مکان کو مسمار کرنے پہنچ گئی، فلسطینیوں کا فورسز پر پتھراؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی شہر رام اللہ میں جمعرات کے روز اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایک غیر معمولی چھاپہ مار کارروائی شروع کی گئی جس کا مقصد پولیس کے مطابق ایک حملہ آور کے گھر کو مسمار کرنا تھا۔

ایک عینی شاہد کے حوالے سے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک بڑا فوجی قافلہ فلسطینی حکومت کے مرکز رام اللہ شہر کے وسط میں پہنچا تو سینکڑوں فلسطینی علاقے میں جمع ہو گئے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ چند فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا۔ صہیونی فورسز نے ہجوم پر براہ راست گولیاں، سٹن گرنیڈز فائر کئے اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، کنٹینرز کو آگ لگا دی۔ علاقے میں ایمبولینس کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔

Advertisement

فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ تقریباً چھ افراد کو علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا ہے جن میں سے تین گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے صہیونی فوجی دستے رام اللہ میں اس فلسطینی کے گھر کو مسمار کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں جس نے مبینہ طور پر گذشتہ نومبر میں القدس میں بمباری کی تھی۔

اس حملے میں دو دھماکوں میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں ایک اسرائیلی - کینیڈین نوجوان بھی شامل تھا۔ کم از کم 14 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

تحریک فتح میں آرگنائزیشن کمیشن کے ترجمان عبدالفتاح دولہ نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے گھر مسماری کر کے انہیں ایک اجتماعی سزا دے رہا ہے۔ اسرائیل کی یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ عالمی برادری کو ان جرائم کو روکنے اور مجرموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنوری سے اب تک کم از کم 158 فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسی عرصے میں فلسطینی حملوں میں 20 اسرائیلی اور دو غیر ملکی شہری مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں