’’اردن کی خواتین اساتذہ صرف گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے پیدا کریں‘‘عجیب مطالبہ پر ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کے لوگوں میں ایک عجیب کتاب نے اس وقت نیا تنازع پیدا کردیا جب جب ایک نجی سکول نے مطالبہ کیا کہ اس کے کام کرنے والے اساتذہ کو گرمیوں کی تعطیلات کے دوران بچے پیدا کرنے کے عمل کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تعطیلات 27 جون سے شروع ہوتی اور 3 ماہ تک جاری رہتی ہیں۔

یہ درخواست سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے علمبرداروں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس پوسٹ کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ خاص طور پر نجی زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات میں اس سکول کی مداخلت نے لوگوں کو برہم کردیا۔

اس صورت حال پر اردن کی وزارت تعلیم بھی تبصرہ کرنے پر مجبور ہوگئی۔ وزارت کے نمائندے نے سرکاری طور پر نجی سکول کی طرف سے جاری اس کتاب کو مسترد کردیا۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق کتاب میں کہا گیا تھا کہ حمل کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ضرورت ہے تاکہ بچے کی پیدائش گرمیوں کی تعطیلات میں ہوا کرے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت سکول کی طرف سے جاری کتاب کو دیکھ رہی ہے۔ یہ خواتین اساتذہ کے خلاف ایک انفرادی فعل ہے۔ یہ کتاب اردن کی سطح پر خواتین اساتذہ کے ساتھ برتاؤ میں عمومی پالیسی کا اظہار نہیں کرتی۔ محکمہ خصوصی تعلیم کی ایک ٹیم اس کتاب کے خلاف مناسب اقدامات کرنے کے لیے سکول کا دورہ کرے گی۔

موسم گرما کے مہینوں کے دوران تولید کو مربوط  کرنے کی تحریر
موسم گرما کے مہینوں کے دوران تولید کو مربوط کرنے کی تحریر

اردن کے سابق رکن پارلیمنٹ قیس زیادین اور تعلیمی میدان میں سرگرم ایک کارکن نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ یہ کتاب ذاتی آزادیوں کی خلاف ورزی کرتی ہے اور اسے نجی زندگی پر پابندی تصور کیا جانا چاہیے۔ شروع میں پابندی اس بات پر تھی کہ ہم ٹی وی پر کیا دیکھتے ہیں۔ بعض اوقات ہم کیا پہنتے ہیں لیکن آج کچھ لوگ حمل کے اوقات اور کچھ مہینوں کی وضاحت کرنے پر آ گئے ہیں۔ یہ اردن کی طرف سے ضمانت دی گئی شخصی آزادی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

پرائیویٹ ایجوکیشن میں ورکرز کی جنرل سنڈیکیٹ کے سربراہ مازن المیطہ نے گزشتہ بیانات میں کہا تھا کہ پرائیویٹ سکولوں میں خواتین اساتذہ قانون کی عدم پاسداری کی وجہ سے اجرتوں میں ہیرا پھیری اور فراڈ کے معاملے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ متحد کام کا معاہدہ دونوں فریقوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور اساتذہ اور نجی سکول انتظامیہ کے درمیان تعلقات کو منظم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی سکولوں کی نگرانی اور معائنہ کو تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں