مصنوعی ذہانت انڈیکس جاری، اسلامی دنیا میں یو اے ای، سعودی عرب اور ترکیہ آگے

عالمی رینکنگ میں امریکہ کا پہلا نمبر، چین، سنگاپور، برطانیہ، اور کینیڈا بھی ٹاپ فائیو میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی ویب سائٹ ’’ ٹورٹائز میڈیا‘‘ نے مصنوعی ذہانت کا عالمی انڈیکس شروع کیا ہے جس میں دنیا بھر کے 62 ممالک کو اس شعبے میں ان کی صلاحیتوں کے مطابق رینک دیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے رواں برس غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ اس انڈیکس کا ان منتخب ممالک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق پیش رفت کو ٹریک کرنا ہے جنہوں نے اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے۔ مصنوعی ذہانت میں اس دلچسپی کو ایک "انقلاب" سمجھا جا رہا ہے

جو کاروبار، حکومتوں اور معاشروں کو متاثر کرے گا۔

چیٹ جی بی ٹی کی آمد اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اے آئی ماڈلز تیار کرنے کی دوڑ نے دنیا میں یہ اہم بحث شروع کردی ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے خطرات کو کس طرح بہتر طریقے سے سنبھالا جائے۔ عالمی انڈیکس سات ذیلی ستونوں میں تقسیم کردہ معیار پر مبنی ہے۔ ان 7 شعبوں میں ٹیلنٹ، انفراسٹرکچر، آپریشنل ماحول، تحقیق و ترقی، حکومتی حکمت عملی اور تجارت شامل ہیں۔

انڈیکس میں عالمی سطح پر امریکہ پہلے نمبر پر رہا ۔ اس کے بعد بالترتیب چین، سنگاپور، برطانیہ، اور کینیڈا پہلے پانچ ملکوں میں شمار ہوئے۔

عرب اور اسلامی دنیا کی سطح پر متحدہ عرب امارات پہلے، سعودی عرب دوسرے اور ترکی تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد قطر، ملائیشیا، انڈونیشیا، مصر، تیونس، مراکش، بحرین، پاکستان اور نائیجیریا کا نمبر آ رہا ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ترقی کے اعتبار سے اسلامی ملکوں میں پاکستان کو 11 واں نمبر ملا ہے۔

خیال رہے مصنوعی ذہانت کے انڈیکس کے چھٹے ایڈیشن (مصنوعی ذہانت انڈیکس رپورٹ 2023) کے مطابق مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سماجی بیداری میں سعودی عرب دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ انڈیکس اپریل میں امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی نے جاری کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں