عراق کا کویت کے ساتھ سرحدی حد بندی فیصلے پر قائم رہنے کا عزم

"ام قصر" واقعات کا جواب دیا گیا، حکومتی ترجمان نے بحران کو سیاسی بلیک میلنگ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی جانب سے اپنی زمینوں کا کچھ حصہ کویت کو دینے کے الزامات کے حوالے سے مقبول اور سیاسی کشیدگی سے بھرے ایک دن کے بعد عراقی وزارت خارجہ نے بدھ کو کہا کہ حکومت سرحد کی حد بندی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے لیے پرعزم ہے۔ پڑوسی ملک کے ساتھ خشکی اور سمندر اور خاص طور پر ’’ ام قصر‘‘ شہر کے حوالے سے حد بندی کے معاملہ میں عراق کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزارت نے پریس بیان میں کہا کہ کویت کی طرف سے زمینی سرحد کی حد بندی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 833 کے مطابق کی گئی ہے۔ عراقی حکومت اس سے اپنی مکمل وابستگی کا اظہار کرتی ہے اور متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ زمینی سرحدیں سرکاری طور پر نصب ہونے کے بعد سے تبدیل نہیں ہوئیں اور نہ ہی ہوں گی۔ ام قصر نیول بیس کے قریب ایک رہائشی کمپلیکس کو سرحدی پوسٹیں نصب کرکے منقطع کرنے کے الزامات کے بعد کویت میں سوشل میڈیا پر غم و غصہ پایا گیا تھا تاہم بصرہ میں مرکزی اور مقامی حکومتوں نے اس کی تردید کی۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ عراق اور ریاست کویت کے درمیان سرحدی پوسٹوں کے ساتھ واقع سرکاری رہائش گاہ عراقی زمین پر واقع ہے۔

بصرہ کے گورنر اسد العیدانی نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ یہ رہائش گاہیں ایک ایسے علاقے میں واقع ہیں جہاں سے سرحدی پٹی گزرتی ہے اور انہیں عراقی حدود میں منتقل کرنا پڑا۔ عراقی حکومت کے ترجمان باسم العوادی نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ سرحدوں کی حد بندی 1994 سے طے شدہ معاملہ ہے۔ طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔گئی۔ حال ہی میں جو بحران پیدا ہوا اسے سیاسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں