اسرائیلی حلقے ابھی تک صدمے کی حالت میں ہیں کیونکہ آپریشن "طوفان الا قصیٰ" تیسرے دن میں داخل ہو رہا ہے اور اسرائیلیوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ حماس کی اس کارروائی کو روکنے میں اسرائیلی فوج اور سکیورٹی ادارے کیوں ناکام رہےہیں؟۔
یہ آپریشن گذشتہ ہفتے کے روز شروع ہوا تھا۔ اس میں فلسطینی دھڑوں کی جانب سے زمین، سمندر اور فضا میں بڑے پیمانے پر راکٹ حملے کیے گئے۔ انہوں نے جنوب میں دیمونا سے لے کر شمال میں ہود ہاشارون اور یروشلم تک مختلف اسرائیلی قصبوں اور شہروں کی طرف ہزاروں میزائل داغے۔ فلسطینی جنگجو زمینی راستے سے اسرائیلی علاقوں میں فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے اور موٹر سائیکلوں اور گلائیڈرز کے ساتھ اور بغیر کسی پیشگی انتباہ داخل ہوئے۔
سب سے اہم سوال باقی ہے کہ یہ کیسے ہوا؟
فلسطینی دھڑوں کی طرف سے آپریشن "طوفان الاقصیٰ" میں جو بات باعث حیرت ہے وہ اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ چونکا دینے والی اور حیران کن تھی۔ اس وقت اسرائیل میں جگہ جگہ تقریبات منانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں اچانک فلسطینیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔
مدير مكتب #العربية في #فلسطين زياد حلبي يكشف مفاجأة عن سر نجاح الفصائل الفلسطينية في اختراق حدود #إسرائيل وسبب تأخر سلاح الجو الإسرائيلي في التدخل pic.twitter.com/AcGkwPffXG
— العربية (@AlArabiya) October 8, 2023
تاہم سب سے نمایاں وجہ اسرائیلی فضائیہ کے کردار کی عدم موجودگی تھی جس نے بمباری کے دو گھنٹے گذر جانے کے باوجود کچھ نہیں کیا اور یہ واضح ہو گیا کہ یہ فضائیہ پہلے تو غیر حاضر تھی۔
فلسطین میں العربیہ اور الحدث کے دفتر کے ڈائریکٹر زیاد حلبی نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فضائیہ نے آپریشن "طوفان الاقصیٰ " کے آغاز کے بعد پورے دو گھنٹے تک کوئی حملہ نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگجو اسرائیلی بستیوں میں داخل ہوئے اور اسرائیلی فوجی مواصلات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بعد 8 فوجی مقامات میں گھس گئے۔
اس طرح، یونٹس نے ایک دوسرے اور فضائیہ کے درمیان رابطہ منقطع کر دیا، جس نے ہم آہنگی کی کمی کے ساتھ کسی بھی نقل و حرکت کو روک دیا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اسرائیل حماس کی کمیونیکیشنز کی جاسوسی کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا جس کا اسے ہمیشہ مزہ آتا تھا۔ آپریشن کے دن حماس نے ایسی لہریں استعمال کیں جن کے بارے میں اسرائیل کو کچھ معلوم نہیں تھا۔
جنگ میں داخلے کا سرکاری اعلان
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کارروائی سے اسرائیل کو اب بھی دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی حکومت نے "سرکاری طور پر حالت جنگ میں داخل ہونے" کا اعلان کیا۔
6 اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے اس "ریاستی سطح پر جنگ" کا اعلان کیا ہے۔
حماس اور دوسرے عسکریت پسندوں کے حملوں میں اب تک 700 سے زائد اسرائیلی ہلاک جب کہ قیدیوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں تقریباً 370 ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
-
اسرائیل کو دفاع کا حق دینا فلسطینیوں کے قتل عام کا لائسنس دینے کے مترادف ہے
ریاض منصور کا عالمی برادری سے دوہرا معیار ترک کرنے جب کہ اسرائیل سے اپنا قبلہ درست ...
مشرق وسطی -
حماس حملے میں 300 اسرائیلی ہلاک ۔۔۔ جوابی کارروائی میں 232 فلسطینی شہید
اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے ...
مشرق وسطی -
فلسطین دھڑوں اور اسرائیل کی 15 برس میں چار جنگیں
غزہ سے 2005 میں انخلا کے بعد 2008، 2012، 2014 اور 2021 میں فلسطینی دھڑوں سے معرکہ ...
ایڈیٹر کی پسند