مشرق وسطیٰ میں آزاد فلسطینی ریاست کے بغیر امن ممکن نہیں: شاہ عبداللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اردن کے شاہ عبداللہ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جب تک خطے میں دو ریاستی حل کے نتیجے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاتی جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو تو خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے اپنا افتتاحی خطاب کر رہے تھے۔

شاہ عبداللہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ کے آغاز سے ہی خطے کے رہنماوں کے علاوہ مغربی دنیا کے رہنماوں سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں اور بتا رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کا امن دو ریاستی حل کے دیرینہ وعدے پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔ اس کے بغیر علاقہ استحکام اور امن نہیں پا سکتا ہے۔

ان کا اپنے نائبین سے خطاب کے دوران کہنا تھا ' مسئلہ فلسطین کا دوریاستی حل جسے ایک طویل عرصے عالمی امن کے تناظر اہم قرار دیا جاتا ہے عملی طور پر ابھی تک معدوم ہے۔ اس کے ممکن ہونے سے پہلے ہی دوبارہ خونریزی شروع ہو جاتی ہے۔

اردن کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیل پر حملے کے بعد فون کر کے شاہ عبداللہ سے بات کی ہے، شاہ عبداللہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن کی خطے کے ہنگامی دورے پر آمد پر عمان میں ان کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات بیان کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ بدھ کی رات کسی وقت اسرائیل اترنے والے ہیں۔ واضح رہے اردن اپنی آبادی کے ساتھ فلسطینیوں کی بھی بڑی تعداد والا ملک ہے۔ جبکہ اردن مغربی کنارے کے ساتھ سرحد شئیر کرتا ہے۔ مغربی کنارے کے حوالے سے فلسطینی پورا یقین رکھتے ہیں کہ یہ آزاد فلسطینی ریاست کا یروشلم کی طرح لازمی طور پر حصہ بنے گا۔

شاہ عبداللہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا ' آزاد فلسطینی ریاست 4 جون 1967 کے دن کی سرحدی پوزیشن کے مطابق قائم ہونی چاہیے۔ نیز اس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت یروشلم ہونا لازمی ہے۔

خیال رہے اردن نے 1967 میں اسرائیل سے جنگ کے دنوں میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم نے کھو دیا تھا اور یہ علاقہ اسرائیلی قبضے میں چلا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں