الشفاء اور القدس ہسپتالوں کے اطراف میں بمباری
غزہ کے تمام ہسپتالوں کو خالی کرنے کی وارننگ
عرب الاھلی ہسپتال کے قتل عام کے دوبارہ ہونے کے خدشات کے جلو میں غزہ کے تمام ہسپتالوں کو اسرائیل کی طرف سے ایک انتباہ موصول ہوا ہے کہ اگر انہیں خالی نہ کیا گیا تو وہ بغیر وقت ضائع کیے ان پر بمباری کر دیں گے۔
فلسطینی انفارمیشن سینٹر نے اتوار کی شام کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں الشفاء ہسپتال اورالقدس ہسپتال کے اطراف میں بمباری کی ہے۔
القدس ہسپتال کے آس پاس کا علاقہ جس میں سینکڑوں زخمی اور بیمار افراد اور تقریباً 12,000 بے گھر افراد اس کے صحن میں موجود ہیں، اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن گیا جب اسے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں تین بار انخلاء کی وارننگ موصول ہوئیں۔
وسطی غزہ میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے قریب بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
الهلال الأحمر الفلسطيني لــ #العربية: #إسرائيل لم تحدد لنا سقفا زمنيا لإخلاء #مستشفى_القدس في #غزة pic.twitter.com/sPI9bnPSxD
— العربية (@AlArabiya) October 22, 2023
فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں زخمیوں اور طبی عملے کی سب سے زیادہ تعداد شامل ہے۔
انخلاء کی ڈیڈ لائن نہیں بتائی گئی
فلسطینی ہلال احمر کے میڈیا افسر نیبال فرسخ نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے 25 ہسپتالوں کو خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ہمارے لیے غزہ میں القدس ہسپتال کو خالی کرنے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔
غزہ کے المعمدانی ہسپتال کے قتل عام کے دوبارہ ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، جس پر گذشتہ منگل کو بمباری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 500 فلسطینی مارے گئے تھے۔
مراسل #العربية: الطائرات الإسرائيلية استهدفت منزلا بالقرب من محيط مستشفى الشفاء في #غزة pic.twitter.com/q0uFMjTFtV
— العربية (@AlArabiya) October 22, 2023
بمباری کا سلسلہ جاری
قبل ازیں مرکزاطلاعات فلسطین نے رپورٹ دی تھی غزہ شہر اور شمالی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ دو گھنٹے سے بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔
غزہ میں وزارت صحت نے اتوار کو اعلان کیا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے شہید ہونے والے شہریوں کی تعداد بڑھ کر 4,651 ہو گئی ہے اور 14,245 زخمی ہو گئے ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے فیس بک پر کہا کہ مرنے والوں میں 1,873 بچے، 1,023 خواتین اور 187 بزرگ شامل ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی بمباری میں مجموعی طور پر 40 فی صد بچے، 70 جب کہ کل شہداء میں 70 فی صد خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔