بلوچ ماہر ماحولیات سعودی عرب کا ایوارڈ جیتنے والے پہلے پاکستانی بننے پر پُرجوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات شمس اللہ درانی ماحول دوست خدمات انجام دینے پراسلامی دنیا میں ماحولیاتی انتظام کے لیے باوقار کنگڈم آف سعودی عرب (KSAAEM) ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔

شمس اللہ درانی نے گذشتہ روز ایوارڈ کے حصول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کنگڈم آف سعودی عرب ایوارڈ ملنے پر انتہائی پرجوش ہیں۔ تیتیس سالہ درانی گرین بلوچستان آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور پشین میں گزشتہ پانچ سالوں سے بڑے پیمانے پر درخت لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ مہم کمیونٹی کی طرف سے رضاکارانہ طور پر شرکت سے ممکن ہوئی جو 2018 میں اسکولوں اور مختلف جگہوں پر درخت لگانے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ جس کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلانا تھا۔

درانی، جو کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں ،18 اسلامی ممالک کے ان 22 افراد میں شامل تھے جنہوں نے 19 اکتوبر کو اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (ICESCO) کے زیر اہتمام اسلامی دنیا کے وزرائے ماحولیات کی نویں کانفرنس کے دوران KSAAEM ایوارڈ حاصل کیا۔ جدہ میں ہونے والی اس تقریب کی میزبانی سعودی حکومت نے کی تھی۔

تقریب کے دوران سعودی وزیر برائے زراعت اور ماحولیات عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے درانی کو انکی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیا کیا۔ ان کی گرین بلوچستان آرگنائزیشن نے یمن کی انوائرنمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ عوامی فائدے اور سول سوسائٹی کی انجمنوں کی سرگرمیوں کے زمرے میں مشترکہ طور پر دوسرا انعام جیتا۔

درانی نے عرب نیوز کو بتایا، جب میں نے یہ ایوارڈ حاصل کیا تو میں بہت پرجوش محسوس کر رہاتھا۔ خاص طور پر جب مجھے پاکستان سے شمس اللہ کہہ کر سٹیج پر بلایا گیا تو میرے احساسات اور جذبات ناقابل بیان تھے۔

گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے موسمیاتی خطرات کے شکار صف اول کے ممالک میں شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 1998 اور 2018 کے درمیان موسمیاتی آفات سےپاکستان میں تقریباً 10,000 جانیں ضائع ہوئیں اور 4 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔

پچھلے سال، مون سون کی غیر معمولی بارشوں نے ملک کے کئی حصوں میں زبردست سیلاب کو جنم دیا۔ جس سے بلوچستان اور سندھ صوبوں میں خاص طور پر بہت نقصان ہوا۔ ان آفات سے 1,700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور سیلاب سے تقریباً 30 بلین ڈالر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا۔

درانی نے کہا کہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے بلوچستان میں آب وہوا کی بہتری کے لیے درخت لگا کر ماحولیات کو بہتر کرنے کے لیے جذبہ کے ساتھ کام کرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں اب تک 2000 سے زائد درخت لگائے ہیں۔ ہم درختوں اور پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں جیسے کہ چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ یہ درخت ذیادہ تر بلوچستان کے دارالحکومت کے مختلف سرکاری اسکولوں میں لگائے ہیں۔

گورنمنٹ بوائز ہائی سکول حاجی غیبی روڈ کے وائس پرنسپل حافظ عبدالرحمن کاکڑ نے سکول کے اطراف میں درخت لگانے اور طلباء کی حوصلہ افزائی کرنے پر درانی کی تعریف کی۔ شمس اللہ پچھلے پانچ سالوں سے اس اسکول کا دورہ کر رہے ہیں اور بچوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں تعلیم دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں