غزہ میں انسانی بنیادوں پرجنگ بندی ناگزیرہوچکی:اردنی فرمانروا کا امریکی صدر کو پیغام
اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کل منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا اعلان، جنگ بندی اور جنگ سے سیاسی تصفیہ کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔
اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی ’بترا‘ کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو غزہ کی پٹی کے جنگ سے تباہ حال باشندوں تک انسانی امداد کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
اردن کے بادشاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’فلسطین اسرائیل تنازع کا واحد حل دو ریاستی حل ہے، جو 4 جون 1967 کے خطوط پر ایک آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو کے قیام کی طرف لے جاتا ہے‘‘۔
سفير #فلسطين لدى الاتحاد الأوروبي عبر الرحيم الفرا: انقسام أوروبي كبير حول مطالبة #إسرائيل بهدنة إنسانية ووقف استهداف المدنيين في #غزة pic.twitter.com/0FHSTgzguB
— العربية (@AlArabiya) October 31, 2023
درایں اثناء وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ بائیڈن اور اردن کے بادشاہ نے غزہ کے لیے امداد بڑھانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکی صدر نے غزہ میں اسرائیلی آپریشن میں سولین آبادی کا نقصان کم سھ کم کرنے کی تجویز پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اردن کے بادشاہ اور امریکی صدر نےغزہ میں فلسطینیوں کو بے گھر نہ کرنے کو یقینی بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
انہوں نے تشدد کو روکنے اور علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
خیال رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں 1400 اسرائیلیوں کی ہلاکت اور اڑھائی سو کے قریب لوگوں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد اسرائیل نے حماس کو کچلنے کے لیے غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کرر کھی ہے۔
غزہ میں وزارت صحت کے مطابق چھبیس روز سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 8,525 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ شہداء میں 3,542 بچے اور 2,187 خواتین شامل ہیں۔