سعودی عرب کے علاقے العلا میں دو لاکھ سال پرانی ’دستی کلہاڑی‘ دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں العلا گورنری کے رائل کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ علاقے میں "قرح" کے مقام پر کھدائی اور آثار قدیمہ کی کھوج کرنے والی ٹیموں نے ایک "دستی کلہاڑی" دریافت کی ہے جو پتھر کے دور کی بتائی جاتی ہے اور اس دور کا اندازہ دو لاکھ سال قبل لگایا گیا ہے۔

نرم بیسالٹ سے بنا پتھر کا آلہ 51.3 سینٹی میٹر لمبا ہے اوراسے دونوں طرف ڈرل کیا گیا تاکہ اسے کاٹنے کے قابل ایک ایسا اوزار تیار کیا جا سکے جس کے کنارے مضبوط ایک مضبوط ٹول تیار کیا جا سکے۔

قرح کا مقام ان تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جو ابتدائی اسلامی ادوار اورٓ قبل از اسلام کے دور سے جزیرہ نما عرب میں کافی شہرت رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے اہم ترین شہری مقامات میں سے ایک تھا۔ یہ علاقہ تاریخی رازوں اور تاریخی آثار قدیمہ کی دولت سے مالا مال ہے۔

اسلام کے اولین دور میں یہ علاقہ ترقی اور خوش حالی کا مرکز تھا۔

لاکھوں سال پرانی اس کلہاڑی کو آثار قدیمہ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا۔ کھدائی کرنے والی ٹیم کی سربراہی ہیریٹیج کنسلٹنگ کمپنی TEOS Heritage کے ڈاکٹر کین اور گیزم اکسوئے کر رہے ہیں۔ یہ ٹیم العلا کے جنوب میں قرح آثار قدیمہ کے مقام کے ارد گرد کے علاقے میں کھدائیوں کے دوران آثار قدیمہ تلاش کرتے ہیں۔

یہ دریافت پتھر کے ایک درجن سے زیادہ اسی طرح کے اوزاروں میں سے صرف ایک ہے جو کہ تمام قدیم پتھروں کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزید سائنسی تحقیق سے توقع کی جاتی ہے کہ ان اوزاروں کی ابتدا اور کام کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور ان لوگوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی جنہوں نے لاکھوں برس انہیں تیار کیا اور انہیں استعمال کیا تھا۔

رائل کمیشن برائے العلا گورنری نے اس پروجیکٹ کے لیے TEOS کمپنی کو ٹھیکہ دیا۔ کمیشن العلا اور خیبر میں فیلڈ ورک کے لیے 11 دیگر خصوصی آثار قدیمہ کے منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے جہاں آثار قدیمہ کی تلاش جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں