اسرائیلی فوج نے شفا ہسپتال کھنگال ڈالا، حماس کا تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنیکا مطالبہ

اسرائیل نے غزہ کے شفا ہسپتال کے قانونی تحفظ ختم کرنے کے جواز میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا: ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیلی سپیشل فورسز نے غزہ کے شفاء ہسپتال کی ہر عمارت اور ہر منزل کی تلاشی لی۔ سینکڑوں مریض اور طلبہ عملہ کمپلیکس میں موجود ہیں۔ رائٹرز کے مطابق صہیونی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپریشن کی بنیاد ایک دہشت گرد انفراسٹرکچر کی موجودگی کے بارے میں ہمارے خیال پر رکھی گئی ہے۔

شفا ہسپتال میں حماس کے ہتھیار اور آلات ملے ہیں۔ حماس نے غزہ کے ہسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے کو چھپانے اور شواہد کو چھپانے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ دوسری طرف حماس نے ان الزامات کی تردید کردی ہے۔ صہیونی فوج کے عہدیدار نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شفا ہسپتال کے کمپیوٹر سے حماس کے زیر حراست افراد سے متعلق ویڈیو کلپس ملے ہیں۔

عہدیدار نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فوٹیج حماس سے تعلق رکھنے والی ڈیوائسز سے ملی ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیلی فورسز شفا ہسپتال کمپلیکس کی تلاشی لی رہی ہیں۔ یہ کمپلیکس کئی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ اُدھر حماس رہنما اسامہ حمدان نے جمعرات کو کہا کہ حماس اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ ہسپتالوں کی حقیقت کا جائزہ لینے اور اسرائیل کی دروغ گوئی پر مبنی بے سرو پا باتوں کو جانچنے کے لیے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں۔

اسامہ حمدان نے شفا ہسپتال میں کی گئی جارحیت کے جرم میں امریکہ کو براہ راست ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں، بیکریوں کو نشانہ بنانے اور پانی کی ترسیل کو روکنے سے اسرائیل کا مقصد ہمارے لوگوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کے 35 میں سے 25 ہسپتالوں کی سروسز کو معطل کردیا ہے۔

دوسری طرف ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اسلحہ کی تصاویر شائع کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کو یہ اسلحہ شفا ہسپتال کے اندر سے ملا ہے۔ یہ تصاویر جنگی قوانین کے تحت ہسپتالوں کے تحفظ کی حیثیت کو روندنے کی اجازت دینے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں