دبئی میں کوپ 28 کے موقع پر یرغمالیوں کی رہائی کی اسرائیلی سفارتی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی صدر دبئی میں ہونے والے عالمی ماحولیاتی اجتماع COP28 میں مختلف ملکوں کے رہنماؤں سے یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں سے متعلق پر بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کو متحدہ عرب امارات میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی مذاکرات میں شرکت کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی پر سفارت کاروں سے بات چیت کریں گے۔


اسرائیل اور حماس کی جنگ چھڑنے کے سات ہفتے بعد شروع ہونے والے اس دورہ میں مزید یرغمالیوں کی رہائی اور جمعرات کو ختم ہونے والی جنگ بندی میں ایک دن کی توسیع جیسے معاملات زیر بحث آنے کا قوی امکان ہے۔


اسرائیلی ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا کہ COP28 میں،جہاں فلسطینی صدر محمود عباس بھی ایک وفد کے ہمراھ موجود ہونگے، ہرزوگ مختلف ممالک کے سربراہان سے حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی کی اہمیت پر سفارتی میٹنگوں میں شرکت کریں گے۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی صدر عالمی رہنماؤں کو یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ’انسانی ‘بنیادوں پر اعلیٰ پائے کی کوششوں کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔


واضح رہے کہ 140 سے زیادہ سربراہان مملکت جمعہ اور ہفتہ کو COP28 کے اجتماع میں شرکت کررہے ہیں۔


پچھلے ہفتے 24 نومبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 210 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 70 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے تقریباً 30 غیر ملکیوں کو، جن میں سے زیادہ تر اسرائیل میں مقیم تھائی اور نیپالی باشندے ہیں، دوطرفہ معاہدے کی شرائط سے ہٹ کر رہا کیا گیا ہے۔


اسرائیل نے جنگ بندی جاری رکھنے جانے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اس نے اسے یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط کیا ہے۔ تاہم کئی ممالک کی طرف سے مستقل جنگ بندی کیلئے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔


ادھر، رضاکاروں کے ایک گروپ نے عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر اہالیانِ غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف اقدامات اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔


اس حوالے سے ماحولیاتی کارکن ایک پریس کانفرنس میں غزہ میں مستقل جنگ بندی اور ساحلی پٹی کی اسرائیل کی جانب سے جاری 17 سالہ ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ عالمی رہنمائوں اور رائے عامہ کے سامنے رکھیں گے۔


ماحول اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے عالمی نیٹ ورک COP28 کولیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انکی ماحولیاتی تحریک قبضے اور نسل پرستی کے خلاف فلسطینی عوام کی جدوجہد کو ماحولیاتی انصاف کیلئے اجتماعی جدوجہد کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں