مشرق وسطیٰ

کیا اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کو جبراً مصر کی طرف دھکیل دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ میں بے شمار فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور اندرونی طور پر غزہ میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اب اسرائیلی فوج انہیں مزید جنوب کی طرف دھکیلنے کی کوشش میں ہے۔

اس بارے میں اقوام متحدہ کے حکام اور مشرق وسطیٰ کے رہنما بھی اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس منظر نامے کا تاریخی تناظر دیکھا جائے تو عرب لوگ اسے یوم ’نکبہ‘ کا نام دیتے ہیں۔

نکبہ بالخصوص فلسطینی عرب۔ ' نکبہ' یعنی بہت بڑی تباہی، فلسطینی اسے اس طرح نکبہ کہتے ہیں کہ اس روز بھی لاکھوں کی تعداد میں فلسطینیوں کو بے گھر کر کے نقل مکانی پر مجبورکر دیا گیا تھا۔

لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ 1948 مئی کے اس روز جسے یوم نکبہ کہا جاتا ہے اس روز 760000 فلطینیوں نے ہجرت یا نقل مکانی کی تھی۔ جبکہ اب کے برس سات اکتوبر سے اب تک 20 لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی بے گھر ہو کر مجبوراً نقل مکانی کر چکے ہیں۔

18600 کی ہلاکت اس کے علاوہ ہے، جن میں ستر فیصد عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کل 24 لاکھ میں سے 85 فیصد فلسطینیوں کی ہے۔

اقوم متحدہ کے حکام کے مطابق جنوبی غزہ میں موجود یہ بے گھر فلسطینی اب جنوب میں ذرا آگے مصری شہر رفح کی طرف نکلنے کی کوشش میں ہیں، کہ جہاں یہ لوگ موجود ہیں وہاں تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں رہی جبکہ بے سروسامانی اور پانی و خوراک تک سے محرومی اس کے علاوہ ہے۔

یہ گھنٹی کون بجا رہا ہے؟

فلیپو گرانڈی، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے ادارے کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہ غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کو زبردستی مصر کی طرف دھکیلنا مصر کو غیر مستحکم کرنے کی انتہائی کوشش ہو گی۔

'یو این ایچ سی آر' کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے جنیوا میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ' یہ بہت اہم ہے کہ کہ اس پر اصرا کر کے بات کی جائے کہ فلسطینیوں کو سرحدوں سے پار انخلاء پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ '

ادھر اتوار کے روز قطر میں ہونے والی دوحہ کانفرنس میں خود سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب کے دوران پہلے ہی مصر کی طرف وسیع پیمانے پر ہجرت کے خطرے سے خبردار کردیا ہے۔

سیکرٹری جنرل کے ان ریمارکس کی بازگشت فلیپو گرانڈی سے بھی ملی ہے، جنہوں نے کہا کہ ہم جو بھی پیش رفت دیکھتے ہیں وہ فلسطینیوں کی مصر کی طرف نقل مکانی کے حوالے سے نظر آتی ہے۔'

'اونروا' کے سربراہ نے لاس اینجلس ٹائمز میں لکھا ' شمالی گزہ میں بہت بڑے پیمانے پپر تباہی کے بعد اسرائیل جنوبی غزہ کے شہر خان یونس سے مزید آگے مصری سرحد کی طرف دھکیل رہا ہے۔

مصر، اردن کے علاوہ فلسطینی صدر محمود عباس پہلے ہی کہہ چکے ہیں فلسطینیوں کو غزہ کی ساحلی پٹی سے فلسطینیوں کو جبری بے دخل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اسرائیل اور امریکہ اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں ۔

کیا اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے؟

اسرائیلی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 'کبھی ایسا منصوبہ تھا اور کبھی ایسا منصوبہ ہوگا کہ غزہ کے رہنے والوں کو مصر کی طرف دھکیلا جائے۔ 'البتہ اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان نے غزہ سے فلسطینیوں کے وسیع پیمانے پر نکالے جانے کے ' آئیڈیا ' کی عوامی سطح پر بھی حمایت کی ہے۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموتریچ نے ماہ نومبر میں فیس بک پر اس ' آئیڈیے' کا خیر مقدم کیا۔ سموتریچ نے لکھا غزہ سے عربوں کی دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرف رضاکارانہ ہجرت کا میں خیر مقدم کروں گا۔'

اسرائیل کے انٹیلی جنس وزیر گیلا گیملیل نے کہا ' جنگ کے بعد کے لیے یہ ' آپشن ' آگے بڑھائی جانی چاہیے، جس میں غزہ کے فلسطینیوں کو انسانی بنیادوں پر پٹی سے باہر دوسری جگہوں پر آباد کیا جانا بھی شامل ہو۔

سابق اسرائیلی حکام بھی ٹی وی ٹاک شوز میں کہتے رہے ہیں ' مصر کو بین الاقوامی فنڈنگ صحرائے سینا میں بہت وسیع پیمانے پر خیمے لگانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔'

کیا اتنی بڑی تعداد میں نقل مکانی کا قانونی جواز کیا ہے؟

جنیوا کنونشن کے تحت شہریوں کو ان کی ملک، شہر اور گھر سے الگ کرنا ممنوع ہے۔ یہ بات بین الاقوامی قانوں کی بنیاد اور جڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر کسی جنگ میں عام لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالا اور بے دخل کرنا جنگی جرم بھی ہے۔

اسی طرح کسی کو جبری طور پر اس کے گھر سے نکالنا، آبادی کو ایک جگہ سے زبردستی دوسری جگہ منتقل کرنا بھی انسانیت کے خلاف جنگی جرائم میں شامل ہے۔

پیلان نے کہا 'اس بارے میں قائدین کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ حالات ہی ایسے بنا دیں جن میں شہریوں کے لیے رہنا غیر ممکن ہو جائے تو پھر کسی کے لیے علاقہ چھوڑ کرچلے جانے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہے۔ پیلان نے کہا اس طرح کی کئی کامیاب عوامی مثالیں ہیں ، جن میں عام لوگوں کی جبری نقل مکانی ہوئی ہے۔'

یہ انٹرنیشنل کرمنل ٹربیونل میں بھی ہیں۔ جیسا کہ سابق یوگو سلاویہ کے حوالے سے ہیں۔ اسی طرح سری لیون کی خصوصی عدالت میں بھی مثالیں موجود ہیں۔

تاریخی پس تناظر کیا ہے؟

محمود عباس کا کہنا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کی تعداد کا اس قدر بڑھ جانا دوسرے نکبہ کے مترادف ہے۔ جنہیں 1948 کے نکبہ کے دوران نکال دیا گیا تھا ان کی اولادوں کی اکثریت اب غزہ میں رہتی ہیں۔

جبکہ پورے خطے میں مجموعی طور پر ساٹھ لاکھ فلسطینیوں کی رجسٹریشن ' اونروا ' کے ساتھ موجود ہے۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مغربی کنارے اور گزہ سے مزید ہجرت ہو ئی تھی۔

دوسرے ملک کیا کہتے ہیں؟

سات اکتوبر کی جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد مصری صدر السیسی نے کہا تھا' غزہ کے لوگوں کو اپنی سرزمین پر ہی رہنا چاہیے۔' واضح رہے مصر پہلا عرب ملک ہے جس نے 1979 میں اسرائیل کو تسلیم کیا تھا ، اس کے بعد 1994 میں اردن نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔

اسی اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے دوحہ کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے' فلسطینیوں کو ایک منظم نظام کے تحت غزہ سے نکالنے کی جارہی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاکہ انہیں غزہ سے نکال کر غزہ خالی کرا لیا جائے ۔'

انہوں نے مزید کہا 'اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی امریکہ فوجی مہم میں اس کی مکمل مدد کر رہا ہے، لیکن غزہ کے لوگوں کو ان کے گھروں اور علاقے سے جبری طور پر نکالا نہیں جا سکتا۔ '

اگرچہ ماہ اکتوبر میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی عرب رہنماؤں سے ملاقاتوں میں کہا تھا کہ ان کا ملک فلسطینوں کو غزہ سے نکالنے کی حمایت نہیں کرتا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں