فلسطین اسرائیل تنازع

فرانسیسی صدر اردن پہنچ گئے، شاہ عبداللہ سے ملاقات میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکروں دوسری بار مشرق وسطیٰ میں ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل ماہ اکتوبر میں بھی اسرائیل وغیرہ کا دورہ کیا تھا۔ وہ جمعرات کے روز اسرائیل میں ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد اردن پہنچ گئے۔

انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ سے شاہی محل میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ فرانس بھی اسرائیل کا اہم اتحادی ملک ہے۔ میکروں نے اپنے پچھلے دورے میں اسرائیل کے ساتھ کندھے کندھا ملا کے کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اب 8 ہزار فلسطینی بچوں اور 6200 عورتوں سمیت 20 ہزار سے زائد ہو چکی شہادتوں کے بعد حمایت جاری رکھنے کے باوجود لہجہ قدرے بدل دیا گیا ہے۔

صدر میکروں خطے میں تعینات فرانسیسی فوجیوں سے بھی کرسمس کے سلسلے میں ملاقات کریں گے اور ان کے حوصلے بڑھائیں گے۔ جمعرات کے روز وہ اردن کے بندرگاہی شہر عقبہ میں اترے تو شاہ عبداللہ ان کے خیرمقدم کے لیے موجود تھے۔

ماہ اکتوبر سے اب تک یہ میکروں اور شاہ عبداللہ کے درمیان دوسری ملاقات ہے۔ اس دوران غزہ کی مکمل تباہی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ہزاروں ہلاکتوں کے علاوہ 20 لاکھ فلسطینی اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہو کر نقل مکانی کے دوران پانی کی بوند بوند اور روٹی کے نوالے کے لیے پریشان ہیں۔

تاہم اہم عالمی طاقت اور اس کے بڑے مغربی اتحادیوں سے اسرائیل کو ہر طرح کی فوجی و سفارتی امداد میسر رہنے کے باوجود ابھی تک حماس کا خاتمہ کرنے میں اسرائیل اور اس کی فوج کامیاب نہیں ہوسکی، حتیٰ کہ اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ایک کو بھی اسرائیلی فوج اپنی طاقت کے ذریعے نہیں چھڑا سکی ہے۔

فرانس کے ایوان صدر سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق فرانس اردن کے ساتھ مل کر غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کو انسانی بنیادوں پر طبی امداد دینے کا کام کرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں