ہماری کوشش غزہ میں جنگ روکنا ہے،ہم فلسطینیوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے:مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آج ہفتے کو مصر نے مسئلہ فلسطین میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ قاہرہ نے غزہ میں جنگ روکنے کے حوالے سے "ایک تجویز کا فریم ورک" پیش کیا ہے تاکہ متعلقہ فریقوں کے خیالات کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

مصری انفارمیشن سروس کی سربراہ ضیا راشوان نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے زور دیا کہ "حالیہ عرصے کے دوران جو کچھ نشر کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے، مسئلہ فلسطین سے متعلق ہر چیز صرف فلسطین کے مسئلے کے گرد گھومتی ہے"۔ کوئی بھی اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ فلسطینیوں کے علاوہ بیرونی جماعتوں کی مداخلت کے ساتھ ایک فلسطینی حکومت کے قیام کے حوالے سے افواہیں درست نہیں ہیں‘‘۔

راشوان نے وضاحت کی کہ مصر نے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں تین مراحل شامل ہیں۔ ان میں توسیعی جنگ بندی اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے حماس کے زیر حراست درجنوں قیدیوں کی بتدریج رہائی شامل ہے۔ ان تین مراحلے کے بعد جنگ کے مستقل خاتمے کی تجویز شامل ہے تاکہ غزہ میں سات اکتوبر سے جاری جنگ کو روکا جا سکے۔

راشوان نے کہا کہ اس وژن کے مطابق 10 دن کے لیے انسانی بنیادوں پرجنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا جس کے دوران حماس اپنے زیر حراست تمام شہری یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جن میں خواتین، بچے اور مریض شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں اسرائیل مناسب، متفقہ تعداد میں قیدیوں کو رہا کرے گا۔

اس عرصے کے دوران غزہ کی پٹی میں دونوں اطراف سے فائرنگ کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔ اسرائیلی فورسز کو رہائشی علاقوں سے دور تعینات کیا جائے گا اور شہریوں کی جنوب سے شمال کی طرف نقل و حرکت کی آزادی کے ساتھ ساتھ کاروں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی ہوگی۔ البتہ ٹرکوں کی اجازت دی جائے گی۔

اس وژن کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے رشوان نے زور دیا کہ اسرائیل کو ڈرون اور جاسوس طیاروں سمیت ہر قسم کی فضائی سرگرمیوں کو روکنا ہوگا جب کہ انسانی اور امدادی سرگرمیاں تیز کی جائیں گی۔

رشوان نے مزید کہا کہ مصر کو ابھی تک متعلقہ فریقوں کی طرف سے تجویز کے حوالے سے کوئی جواب نہیں ملا ہے اور نہ ہی ان کے ملک کے موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر 1967ء کی سرحدوں پرمشتمل ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ برقرار رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں