باب المندب میں کارگو جہاز کے نزدیک دھماکے: برطانوی ایجنسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی سمندری تحفظ کے ادارے ' یو کے ایم ٹی او ' نے نے اطلاع دی ہے کہ منگل کی رات باب المندب میں ایک کارگو جہاز کے نزدیک دھماکہ ہوا ہے۔ یہ علاقہ بحیرہ عرب اور قرن افریقہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔

واضح رہے حوثیوں نے انتباہ کر رکھا ہے کہ بحیرہ احمر کے راستے اسرائیل کی طرف جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ پچھلے کئی ہفتوں سے حوثیوں کی اس دھمکی اور گاہے گاہے کیے جانے والے ڈرون یا راکٹ حملوں کی وجہ سے اس سمندری علاقے میں صورت حال تشویش ناک ہے۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا ہے کہ اسے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جن کے مطابق ایک سے تین دھماکے باب المندب میں ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے ایک کارگو جہاز سے تقریبا ً ڈیڑھ سمندری میل کے فاصلے پر تھے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کارگو جہاز اریٹیریا اور یمن کے درمیان سفر کر رہا تھا۔ برطانوی حکام نے اس جہاز کے قریب ہونے والے دھماکوں کے بارے میں تحقیقات شروع کرا دی ہیں۔

برطانوی رائل نیوی کے مطابق ابتدائی طور پر یہی اطلاعات ملی ہیں کہ جہاز کو کوئی نقصان ہوا ہے نہ ہی جہاز کے عملے کو کسی قسم کا نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے تجارتی جہازوں کو بھی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ واقعات بحیرہ احمر، باب المندب، اور خلیج عدن کے علاقوں میں سامنے آئے ہیں۔

حوثیوں کو کہنا ہے کہ ان کی یہ کارروائیاں غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہیں جہاں اسرائیل کی مسلسل بمباری سے اب تک 22000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 20 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو کر نقل مکانی کر چکے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق ادھر بحیرہ احمر کے علاقے میں حوثیوں کی طرف سے چلائے گئے متعدد ڈرونز کو امریکی۔ برطانوی اور فرانسیسی جنگی بحری جہازوں نے مار گرایا ہے۔

حوثیوں کا ان سمندری راستوں پر کنٹرول ہونے اور ان کی جانب سے حملوں کی وجہ سے اب تک اس علاقے سے سمندری تجارت کو 12 فیصد تک تجارت کم ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں