لبنان میں حزب اللہ گروپ کی کارروائیوں سے واقف سیکورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک اسرائیلی حملے میں پیر کے روز جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کا ایک کمانڈر ہلاک ہو گیا اور یہ اسرائیل کے ساتھ تین ماہ کی دشمنی میں اس کے سینئر افسران پر ہونے والے سب سے اعلیٰ سطحی حملوں میں سے ایک ہے۔
7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اسرائیلی-لبنانی سرحد کے پار ہونے والی دشمنیوں میں حزب اللہ کے 130 سے زائد جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں جن میں رضوان فورس کے ارکان بھی شامل ہیں۔
لبنان کے تین سیکورٹی ذرائع کے مطابق رضوان یونٹ کے نائب سربراہ وسام الطویل اور حزب اللہ کا ایک اور جنگجو اس وقت ہلاک ہو گیا جب مجدل سیلم گاؤں میں ان کی گاڑی اسرائیلی حملے کی زد میں آ گئی۔ یہ گاؤں سرحد سے تقریباً 6 کلومیٹر (3.7 میل) کے فاصلے پر ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اس معاملے سے واقف لبنان کے ایک اور خبری ذریعے کے مطابق الطویل حزب اللہ کے سینئر ترین کمانڈرز میں سے ایک تھے جو اب تک کی لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔
اس گروپ نے حزب اللہ کے رہنماؤں کے ساتھ الطویل کی تصاویر شائع اور تقسیم کیں جن میں سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ اور عماد مغنیہ شامل ہیں۔ مؤخر الذکر لیڈر اس گروپ کے فوجی کمانڈر تھے جو 2008 میں شام میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ایک اور تصویر میں انہیں ایرانی قدس فورس کے مرحوم رہنما قاسم سلیمانی کے ساتھ دکھایا گیا تھا جو چار سال قبل بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع میں سے ایک نے طویل کی موت کو "ایک انتہائی تکلیف دہ حملہ" قرار دیا۔ ایک اور نے کہا "اب چیزیں بھڑک اٹھیں گی۔"
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس کی مہم کا مقصد غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے۔ گروپ اور اسرائیل کے درمیان دشمنی زیادہ تر سرحد کے قریبی علاقوں تک محدود رہی ہے۔
کشیدگی میں اضافہ گذشتہ ہفتے اس وقت ہوا جب بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے زیرِ قبضہ علاقے میں اسرائیلی حملے میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل نے اس حملے کے لیے نہ تو اپنی ذمہ داری کی تصدیق کی اور نہ تردید۔
حزب اللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے العاروری کی ہلاکت کے "ابتدائی ردِعمل" کے طور پر 62 راکٹوں سے ایک اہم اسرائیلی مشاہداتی چوکی کو نشانہ بنایا۔
دشمنی کے دوران ہلاک شدہ رضوان فورس کے دیگر ارکان میں حزب اللہ کے ایک سرکردہ سیاست دان کا بیٹا عباس رعد بھی شامل ہے۔ وہ نومبر میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوا تھا۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے گذشتہ ہفتے دو ٹیلیویژن خطابات میں اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ لبنان کے خلاف مکمل اور وسیع پیمانے پر جنگ شروع نہ کرے۔
نصراللہ نے کہا، "جو بھی ہمارے ساتھ جنگ کا سوچے گا – تو صرف ایک بات، وہ پچھتائے گا۔"
اتوار کے روز حزب اللہ کے نائب رہنما نعیم قاسم نے کہا کہ گروپ "مکمل جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر اسرائیل نے ہم سے مکمل جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو ہم میدان میں بلاجھجک اور جو ہمیں میسر ہے، اس کے ہمراہ مکمل جنگ کے ساتھ جواب دیں گے۔"
شام میں لڑائی شروع ہونے کے بعد حزب اللہ کے 19 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
حماس-اسرائیل جنگ نے پورے خطے میں ایران سے منسلک گروپوں کو گھسیٹ لیا ہے جن میں یمن کے حوثی بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر گولے اور اسرائیل پر میزائل اور ڈرون داغ رہے ہیں اور عراق میں تہران کی حمایت یافتہ ملیشیا عراق اور شام میں امریکی افواج پر حملے کر رہی ہیں۔