غزہ جنگ کے واقعات نسل کشی کا اشارہ دیتے ہیں:ایمنسٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری 3 ماہ سے زیادہ دنوں سے جاری رہی اور شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج منگل کوتنبیہ کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں نسل کشی کے واقعات کے بارے میں اشارےموجود ہیں، جن میں مزید ہلاکتیں بھی ہوسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی پراسرائیل کی طرف سے حماس کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں 25,000 سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

تنظیم نے مزید کہا کہ نسل کشی کے اشارے میں "غزہ کے شہریوں کو اسرائیل کی طرف سے انسانی امداد سے جان بوجھ کر محروم کرنا اور بعض اسرائیلی حکام کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ اور غیر انسانی بیان بازی اپنانا" شامل ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک بیان میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے سلوک کو نسل پرستانہ اور جبر پرمبنی قرار دیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں اجتماعی انسانی مصائب اور تباہی کے خاتمے کے کوئی آثار تاحال ظاہر نہیں ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف عالمی عدالت انصاف بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی اور دیگر جرائم کے کمیشن کے بارے میں سچائی کے بارے میں حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

تنظیم نے اس بات پربھی زور دیا کہ غزہ میں عارضی اقدامات کے تحت جنگ بندی، شہریوں کی مزید ہلاکتوں ، تباہی اورمصائب کو روکنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں مرنے والوں کی تعداد 25,490 ہو گئی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ .

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 195 افراد مارے گئے، جب کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 63,354 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ کی پٹی پر وسیع اسرائیلی حملے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور ایک اندازے کے مطابق 85 فیصد آبادی بے گھر ہوگئی۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ جنگ نے غیرمسبوق انسانی تباہی کو جنم دیا ہے۔غزہ کی 2.3 ملین آبادی کا ایک چوتھائی حصہ قحط کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں