غزہ کے جنوبی شہر رفح میں سینکڑوں بے گھر فلسطینی بچے پیر کے روز خوشی کے ایک نادر لمحے سے لطف اندوز ہوئے جب نوجوانوں کے ایک گروپ نے ان کی تفریح کے لیے ایک پناہ گاہ کا دورہ کیا۔
القدس اوپن یونیورسٹی میں ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم شریک یوتھ فورم نے دن کی روشنی میں بچوں کے ساتھ گانا گایا اور رقص کیا اور شام کے وق ایک اینی میشن فلم کی نمائش کی۔
"گروپ کے ساتھ کام کرنے والے ایک ملازم خلیل قشتہ نے کہا، "اس اقدام کا مقصد نفسیاتی دباؤ اور تناؤ کے ساتھ ساتھ پناہ گاہوں کے اندر موجود خوف اور دہشت کے احساسات کو کم کرنا ہے۔
یہ گروپ غزہ کے جنوب میں پناہ گاہوں کے درمیان گھومتا رہا ہے جو چھوٹے بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیاں بشمول سرکس اور جوکر شوزپیش کرتا ہے۔
انہوں نے یہ ورکشاپ جنگ کے دوسرے دن شروع کی۔
شریک نوجوانوں پر مرکوز ایک فلسطینی این جی او ہے جو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی دونوں میں سرگرم ہے۔
"قشتہ نے مزید کہا، "ہم امید کرتے ہیں کہ بے گھر افراد کے لیے سینما کا یہ اقدام اسی اثر کے ساتھ جاری رہے گا اور یہ ہمارے بچوں اور پناہ گاہوں کے اندر ان کے خاندانوں کو مثبت طور پر متأثر کرے گا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت سے غزہ میں کم از کم 25,295 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں