عراقی گروپوں نے ’اربیل‘ ایئرپورٹ کے قریب امریکی اڈے پرڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی افواج کے عراق میں جرف الصخر اور القائم میں الحشد الشعبی کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے چند گھنٹے بعد ایک مسلح ڈرون نے شمالی عراق میں اربیل ہوائی اڈے کے قریب ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، جب کہ مسلح عراقی دھڑوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کی خبر کے مطابق دو عراقی ذرائع نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ ایک مسلح ڈرون نے اربیل ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب "عراق میں اسلامی مزاحمت" کے نام سے مسلح دھڑوں نے ایک ہی دن میں تین اڈوں پر ڈرون اور میزائلوں سے حملے کی ذمہ داری قبول کی جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔

یہ پیش رفت امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے عراق میں حزب اللہ بریگیڈز اور دیگر عراقی مسلح گروپوں کے زیر استعمال تین تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

عراق میں امریکی افواج
عراق میں امریکی افواج

عراق کی مذمت

دریں اثنا ان امریکی حملوں نے عراقی حکومت کو ناراض کردیا۔ بغداد حکومت نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئےانہیں ملک کی خودمختاری پر حملہ اور عراقی کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔

مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان یحییٰ رسول نے بھی اسے ملک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور برسوں کے تعاون کو نقصان پہنچانے کا ایک "واضح عزم" قراردیا۔

الحشد الشعبی فورسز کے سرکردہ رہ نما ہادی العمیری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں تمام غیر ملکی افواج کو نکالنے کے لیے اقدامات کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں